ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 250

250 کے دل ان کی طرف مائل کر کہ یہ تیرے عبادت گزار بندے ہیں ورنہ اگر تیرے عبادت گزار بندے نہ ہوں تو ان کو پھل کھلوانے میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں۔مجھے تو یہی دلچسپی تھی کہ قیامت کے دن تو بخش سکتا ہے تو ضرور بخش۔جہاں تک دنیا کے پھلوں کا تعلق ہے تو نے وعدہ تو کر دیا ہے مگر میں عرض کر دوں کہ ابھی بھی مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔دنیا میں ان کو کچھ دے نہ دے لیکن جو نیک بندے ہیں، جو عبادت کرنے والے ہیں ان کی طرف دلوں کو ضرور مائل فرمانا اور ان کے لئے لوگ دور دور سے طرح طرح کے تحائف لیکر آئیں، ہر قسم کے پھل ان تک پہنچیں۔لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ تاکہ وہ لوگ تیرے شکر گزار بنیں۔ان نعمتوں کو دیکھیں اور بار بار تیرا شکر ادا کریں کہ اے خدا! محض تیرے پیار کا اظہار ہے کہ لوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہوئے ورنہ ہماری کیا حیثیت تھی۔رَبِّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ حضرت ابراہم کا مقام آپ کی دعاؤں پر غور کرنے سے مزید ابھرتا چلا جاتا ہے۔یہ عرض کیا کہ اے خدا میری نیت پاک ہے۔مجھے تو یہ دلچپسی تھی کہ عبادت کرنے والے ہوں۔ظاہری رزق میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ بعض دفعہ انسان اپنی مخفی نیتوں سے خود بھی واقف نہیں ہوا کرتا۔خدا کے حضور تو یہ دعویٰ کرنا بہت بڑی بات ہے کہ میں اس نیست سے کر رہا ہوں اور فلاں نیت سے نہیں کر رہا تو فورا عرض کیا : ربنا انكَ تَعْلَمُ دينَا مَا نُخْفِي وما تعلن اے خدا ! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جن باتوں کا ہم اظہار کرتے ہیں۔مطلب ہے ہم اچھی نیتیں کہہ بھی دیں۔اچھی باتیں تیرے حضور عرض کر رہے ہوں کہ ہم یہ یہ نیکیاں پیش نظر رکھتے ہوئے دعائیں کر رہے ہیں پھر بھی احتمال موجود ہے کہ بعض مخفی ارادے برے ہوں۔بعض مخفی نیتیں گندی ہوں یا نفسانی ہوں۔اس لئے میں تیرے حضور یہ عرض کرتا ہوں کہ میں اپنے متعلق کسی بھی براء ت کا اقرار نہیں کرتا۔میں جانتا ہوں کہ مجھے جو نیت صفا دکھائی دے رہی ہے اس کے پیچھے پھر بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسا مخفی بدا رادہ موجو دہو اس کے لئے تو مجھے سے رحمت کا سلوک فرمانا۔یعنی اپنی عاجزی کا اظہار ہے اور احتمالی گناہوں کا اقرار ہے۔