ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 240
240 ہوتے ہیں ہم اتنے مستغنی ہیں کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں کوئی گھبراہٹ نہیں جانتے ہیں کہ ایک وقت ضرور ایسا آئے گا کہ یہ مدفون خزانے پھر ا بھر آئیں گے اور زمین ان خزانوں کو یعنی خدا تعالٰی کے نشانات کے خزانے باہر پھینک دے گی۔کشتی میں سوار ہوتے وقت حضرت نوح کی دعا اب میں آپ کو حضرت نوح کی دعا بتاتا ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے : وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسمِ اللهِ مَجْرِيهَا وَ مُرْسَهَا، إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمُ هود : ۲۲) نوح کی جو یہ دعا ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائی ہوئی دعا ہے۔فرمایا : وقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا اس کشتی میں سوار ہو جاؤ۔بشور الله مخرمها و موسکا اور یہ پڑھتے چلے جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کی ذات بابرکات کے ساتھ ہم اس سفر کا آغاز کرتے ہیں۔مجرتها و مرستها اس کشتی کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی اسی کے نام سے ہے۔اِن رَبِّي لَغَفُورٌ حِيم یقیناً میرا رب بہت ہی بخشنے والا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔پس یہ الهامی دعا ہے اور جتنے بھی سمندر کے یا دریاؤں وغیرہ کے سفر اختیار کئے جاتے ہیں ان میں عام طور پر وہ مسلمان جو اس دعا سے واقف ہیں یہی دعا کرتے ہیں اور ہمیں بھی سب احمدیوں کو یہ دعا کرنی چاہئے قادیان میں تو سب کو اس دعا سے بہت ہی واقفیت تھی اور بچے بچے کو سکھائی جاتی تھی لیکن اب جو موجود نسلیں ہیں اس سے کچھ تافل ہوتی جا رہی ہیں۔اس لئے میں یہ دعائیں دوبارہ پڑھ کر ان کا پس منظر آپ کو بتا رہا ہوں کہ اپنے بچوں کو اپنے ماحول میں سب عزیزوں کو یاد بھی کرائیں اور ان کا مضمون سمجھائیں۔ان دعاؤں سے ایک ذاتی تعلق پیدا کر دیں تاکہ جب بچے یہ دعائیں مانگیں یا آئندہ جو بڑے بھی ہوں گے وہ مانگیں تو ان کے دل کی گہرائیوں سے یہ دعائیں اٹھیں اور اس مضمون کو سمجھ کر وہ یہ دعائیں کرنے والے ہوں۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی میں سوار ہونے کے بعد اللہ کے نام پر جو سفر اختیار کیا اس سفر میں ان کا ایک بیٹا ساتھ نہیں تھا اور جب وہ طوفان بہت بڑھا تو آپ نے دیکھا کہ وہ بیٹا ایک پہاڑی کے دامن میں کھڑا ہے۔آپ نے اس کو آواز دی