ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 239
239 لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں گے تو دیکھیں بظاہر سرسری طور پر ان دعاؤں سے گزریں تو معمولی سا مضمون سمجھ میں آتا ہے لیکن جب ڈوب کر چلیں اور ان کے اندر جو مضامین کی تہیں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے سیر کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو بڑے بڑے لطیف مضامین ہیں جو ان دعاؤں میں اور ان کی قبولیت کے نشانات میں پوشیدہ ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں ان کا عرفان فرماتا ہے۔یہ آیت پوری یوں ہے - آلفنَ وَقَد عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ فَالْيَوْمَ تُنجِيكَ بِبَدَكَ لتَكُونَ لِمَن خَلْفَكَ آيَةً وَإِن كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ أيْتِنَا تَغْفِلُونَ (سوره یونس : ۹۲ ۹۳) کہ اب تو کہتا ہے کہ میں ایمان لے آیا حالانکہ اس سے پہلی عمر تم نے عصیان میں گزار دی اور تو صرف گہنگار ہی نہیں بلکہ فساد کرنے والا گنہ گار تھا۔فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ يبدنك پر آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات بخشیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے۔وإِن كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ أَيْتِنَا لَغْفِلُونَ اور دنیا میں اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں۔اس موقعہ پر جبکہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ کہنا کہ دنیا کے اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں، دہرے معنی رکھتا ہے۔ایک تو عمومی بیان ہے کہ لوگ اکثر خدا کی آیات سے غافل ہی ہوتے ہیں، دوسرا یہ کہ فرعون کی لاش کے متعلق اس وقت ساری دنیا غفلت میں تھی اور یہ ایک ایسا نشان تھا جس پر دنیا کے کسی عالم کی بھی نظر نہیں تھی، کسی تاریخ دان کی بھی نظر نہیں تھی کیونکہ اس وقت کی معروف تاریخ کے مطابق فرعون کے دریا میں غرق ہونے کا واقعہ اور پھر خدا کا اس سے وعدہ کرنا یہ دنیا کے کسی تاریخی ریکارڈ میں درج نہیں تھا۔قرآن نے پہلی دفعہ بیان فرمایا اور مصر کی تہذیب تہہ در تمہ ریت میں دفن ہو چکی تھی اور وہ بڑے بڑے مقبرے جن میں بعد میں فراعین کی لاشیں مدفون پائی گئیں اور بعد میں دریافت ہوئیں وہ اس وقت کی دنیا کی نظر میں نہیں تھے۔پس اس ذکر کا کیسا پیا را انجام ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَإِن كَثيرا من النَّاسِ عَن ايْتِنَا لَغْفِلُونَ کہ دنیا میں اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل