ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 236
236 صحیح نتیجہ نکالتے ہیں کہ ابھی اور شدت عذاب میں چاہئیے اس کے بغیر یہ مانیں گے نہیں مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ گناہ میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ جس قسم کا عذاب ان کو منواتا ہے وہ عذاب اس وقت آتا ہے جبکہ حجت تمام ہو چکی ہوتی ہے اور پھر ایمان لانا بیکار ہو جاتا ہے۔اب دیکھ لو تمہاری دعائیں سنکر ہم نے فرعون کو اس حد تک عذاب دے دیا کہ جس کے نتیجے میں بالآخر اس کا سر جھکا لیکن خدا نے یہ کہا کہ اب تو تیری روح بچنے کا کوئی وقت نہیں رہا، چونکہ جب تک تیری روح خطرے میں تھی تو نے اس وقت تک تو موسیٰ اور موسیٰ کے رب کو قبول نہیں کیا اب بدن کا خطرہ ہے تو اب تو کہتا ہے کہ مجھے بچالے تو فرماتا ہے کہ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ ٹھیک ہے۔اب روح کے بچے کا تو وقت نہیں رہا لیکن تیرے بدن کے بچانے کا وقت ہے۔ہم تیرے بدن کو بچالیں گے اور وہ اس لئے بچائیں گے تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے یہ عبرت کا نشان بن جائے۔حضرت موسیٰ کی دعا کے نتیجے میں پیش آنے والے اس واقعہ سے متعلق تاریخ میں بہت سا ابہام موجود ہے۔بالعموم تمام مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ فرعون وہیں اس وقت غرق ہو گیا تھا اور بچا نہیں بلکہ صرف اس کا جسم بچا تھا اور تاریخ سے جہاں تک میں نے چھان بین کی ہے ایسی قطعی کوئی شہادت نہیں مل سکی کہ یہ فرعون جس کا ذکر چل رہا ہے یہ غرق ہو گیا تھا کیونکہ جو ممی (MUMMY) ملی ہے وہ ہے تو اسی فرعون کی۔اس کے ساتھ ایسا واقعہ تو ضرور پیش آیا ہے مگر یہ قطعی شہادت نہیں ہے کہ وہ غرق ہو کر مرا تھا۔اس لئے آئندہ مزید تحقیق ہمیں بتائے گی کہ اصل واقعہ کیا ہوا۔پھر اس آیت کی صحیح تغییر ہمارے سامنے آئے گی کہ نُنجِيكَ بِبَدَنِكَ سے کیا خدا تعالیٰ کی یہ مراد تھی کہ ہم تیرے بدن کو آج بچائیں گے تیری روح پھر بھی نہیں بچے گی۔تو پھر واپس لوٹے گا اور تیرا بدن دنیا کے لئے آئندہ عبرت کے لئے محفوظ کیا جائے گا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم تجھے فرق تو کر دیں گے لیکن تیری لاش کو بچائیں گے اور تیری لاش بعد میں دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنے گی تو دونوں صورتوں میں یہ بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ابھی اس کا ایک پہلو تشنہ تحقیق