ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 235

235 غریب لوگوں کو ہمیشہ وہ تذلیل اور تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا نفسیاتی مطالعہ کیا ہے اور یہ نتیجہ نکالا کہ عذاب تو آئے ہیں جیسا کہ خدا نے فرمایا۔بار بار نشان دکھائے گئے اور اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوئیں لیکن پھر آخر یہ کیوں پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور بظاہر ایمان لا کر پھر قدم پیچھے کی طرف ہٹا لیتے ہیں تو یہ سوچتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سوچا کہ اموال کا تکبران کو برباد کر رہا ہے۔دينا الطيش على اموالھم ان کے اموال پر حملہ کر۔ان کے اموال برباد کردے۔واشدد على قُلُوبِهِمْ اور دلوں میں جو انانیت پیدا ہو گئی ہے اس کی وجہ سے ان کے دلوں پر سختی کر۔ایسا عذاب ڈال جس سے دل نرم پڑ جائیں۔فَلا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرُوا الْعَذَاب الأليم یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک درد ناک عذاب کا منہ نہ دیکھیں۔اب یہ باتیں اللہ تعالٰی کو بھی معلوم تھیں۔حضرت موسیٰ نے کوئی نئی بات تو نہیں نکالی اس کے باوجود خد اتعالیٰ کیوں ان لوگوں کو توفیق نہیں عطا فرما رہا تھا۔اس لئے کہ وہ ایمان لانے کے اہل نہیں رہے تھے۔چنانچہ اللہ تعالٰی جب دعاؤں کو قبول کرتا ہے تو دعا اور قبولیت دعا کے دوران ایک بہت ہی گہرا لطیف رشتہ ہوتا ہے جو سطحی مطالعہ سے نظر نہیں آتا مگر اللہ تعالٰی بھی اپنے بندوں سے ایسے لطائف کرتا رہتا ہے اور یہ مضمون قرآن کریم کی دعاؤں اور استجابت دعا کے مضمون میں بہت ہی دلچسپ رنگ میں محفوظ فرمایا گیا ہے۔حضرت موسیٰ نے یہ کہا کہ جب عذاب الیم دیکھ لیں گے پھر یہ توبہ کریں گے۔خدا نے کہا۔ہاں ہمیں علم ہے کہ کس حد تک عذاب الیم دیکھیں گے تو توبہ کریں گے لیکن دعا قبول کرلی اور بعد میں فرمایا کہ جب ہم فرعون کو غرق کرنے لگے تو اس وقت اس نے کہا : - أمَنْتُ أَنه لا إله إلا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنُو الإِسْرَاءِ يْلَ اس فرعون نے اس وقت پکارا کہ اب میں ایمان لایا ہوں۔لا اله إلا الدني اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے جس پر بنو اسرائیل ایمان لے آئے ہیں۔اس کا جواب اللہ تعالٰی نے یہ دیا۔الفن وقَدْ عَصَيْتُ قبل اب ایمان لاتا ہے قَبْلُ جبکہ اس سے پہلے تو انکار کر چکا تھا تو مراد یہ ہے کہ انبیاء کی فراست بھی درست۔وہ یہ