ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 203
203 زکریا کو خدا سے یہ دعا کرنے کی طرف متوجہ کیا۔هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِ يَا رَبَّهُ ، قَالَ رت حشري من لدنك ذرية طيبة ، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعاء (آل عمران : ۳۹) اس وقت جب حضرت زکریا نے یہ کیفیت دیکھی تو دل سے ایک ہوک اتھی اور اپنے رب سے اس نے عرض کیا رَبِّ هَبْنِ مِن لَّدُنْكَ ذُريَّةً طَيِّبَة اے خدا! مجھے بھی خالص اپنی جناب سے پاک ذریت عطا فرما۔اِنك سميم الدعاء یقینا تو بہت دعا سننے والا ہے۔اس کے بعد پھر اس دعا کی مختلف الفاظ میں تکرار ہوگی جو ایک عجیب پر درد مضمون رکھتی ہے۔چونکہ میں نمبر کے لحاظ سے چل رہا ہوں اس لئے یہاں بیان کرنے کی بجائے جب وہ موقعہ آئے گا تو پھر میں آپ کے سامنے بیان کروں گا۔پہلے تو میرا خیال تھا کہ یہ مضمون ایک ہی خطبہ میں ختم ہو جائے گا مگر یہ جاری رہے گا۔پس وہ عبادت کرنے والے جو مسافر گاڑی میں مستقل سوار ہیں، ان کے لئے تو کوئی مشکل نہیں۔وہ تو ساتھ چلتے رہیں گے اور یہ باتیں سنتے رہیں گے اور ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور عبادت کے نئے نئے گر سیکھتے رہیں گے اور ان کی مشکل کشائی ہوتی چلی جائے گی لیکن جو لوگ اتر گئے ہیں یا اتر جائیں گے جہاں تک آپ کو توفیق ہے اگر آپ ان کے واقف ہیں، کبھی ان سے ملتے ہوں تو ان کو بھی بتاتے رہیں ہو سکتا ہے یہ باتیں سن سن کر جس طرح حضرت ذکریا کے دل میں نیک بات دیکھ کر خدا کے خاص فضل کو دیکھ کر ویسا ہی فضل طلب کرنے کی تمنا پیدا ہوئی تھی، میری دعا ہے اور میری تمنا ہے کہ اسی طرح جب آپ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچائیں جو آج کے سٹیشن سے آپ کو رخصت کر کے واپس ہونے والے ہیں تو ان کے دل میں یہ تحریک ا ہو کہ وہ مستقل آپ کے سفر کے ساتھی بن جائیں اور اس طرح یہ جمعہ ایک ایسی خیر پیچھے چھوڑ جائے جو وداع ہونے والی خیر نہ ہو جو رخصت ہونے والی خیر نہ ہو بلکہ ہمیشہ زندگی کا جزو بن جانے والی خیر زندگی کے ساتھ وفا کرنے والی خیر ایسی خبر بن جائے جس سے کبھی پھر وداع نہیں ہوا کرتا وہ ہمیشہ ساتھ رہا کرتی ہے۔