ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 202
۔202 مریم نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی، ان کے والدہ نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کو وقف کر دیا تھا اور بعد میں حضرت ذکریا کی تحویل میں ان کی تربیت کے لئے دیا گیا تھا) تو حضرت ذکریا وقتاً فوقتاً حجرے میں ان کا حال پوچھنے جایا کرتے تھے اور وہاں مختلف قسم کے رزق دیکھتے تھے۔عام طور پر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ غیب سے بغیر کسی اطور انسانی واسطے کے وہاں کئی قسم کے تھے پہنچے ہوتے تھے لیکن حضرت زکریا کی دعا سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بات نہیں تھی کچھ اور بات تھی۔حضرت مریم کو نیکی کی وجہ سے کچھ لوگ تو جیسا کہ دنیا میں رواج ہے دعائیں لینے کے لئے محبت کے اظہار کے لئے تحائف پیش کیا کرتے تھے اور چونکہ حضرت مریم اسے اپنی ذاتی خوبی نہیں سمجھا کرتی تھیں ہمیشہ پوچھنے پر یہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے رزق ہے میرا تو اس میں کچھ نہیں ہے۔نہ میں نے مانگا نہ توقع کی۔لوگوں کے دلوں میں خدا نے خود محبت پیدا فرما دی اور پھر وہ مجھے جو پیش کرتے رہتے ہیں تم دیکھ رہے ہو اور دوسری مراد یہ تھی اس رزق سے کہ روحانی رزق پاتے تھے۔خدا ان سے رحمت اور مغفرت کا بھی سلوک فرماتا تھا اور پر کشوف کے ذریعے یا الہامات کے ذریعے یا کچی رویا کے ذریعے رجوع برحمت ہوتا تھا اپنی رحمت کا بار بار اظہار فرماتا تھا تو جس طرح عام طور پر بعض نیک گھروں میں مشاہدے میں بات آتی ہے کہ بعض بچوں سے پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ کیا خواب دیکھی؟ کیا خدا کی طرف سے رحمت کا نشان ملا؟ تو وہ نئی نئی باتیں بتاتے ہیں تو حضرت مریم بھی اپنی معصومیت اور بھول پن میں اس وقت جو بھی گزشتہ رات کے واقعات ہوا کرتے تھے وہ بتایا کرتی تھیں کہ خدا نے مجھ سے یہ فرمایا۔مجھ سے یہ فرمایا۔اس طرح رحمت کا سلوک فرمایا۔اس طرح پیار کا اظہار فرمایا تو حضرت ذکریا جو خود نبی تھے وہ رشک کرتے تھے۔رشک اس بات پر نہیں کرتے تھے کہ مجھے مریم کی طرح کچھ عطا نہیں ہوا۔رشک اس بات پر کرتے تھے کہ مریم ایک ماں کی دعا کا نتیجہ ہے اور اس دعا کے نتیجے میں پاک اولاد ہے۔میں پاک اولاد سے محروم ہوں۔کاش! میں بھی یہ فخر کر سکوں کہ میری اولاد بھی اس طرح نیک ہو اور اس طرح خدا سے رزق پانے والی ہو۔اگر یہ مضمون درست نہ ہو تو اگلی دعا کا اس سے تعلق ہی کچھ نہیں بنتا تو در حقیقت یہی وہ بات تھی جس نے حضرت اني