ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 188
188 اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی بھی حسنہ عطا فرما اور آخرت کی بھی حسنہ عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔پس وہ احمدی جو اس فرمان سے واقف نہیں ہیں وہ شاید دعا سے تو واقف ہوں گے لیکن یہ علم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں یہ دعا کتنی اہمیت رکھتی تھی۔ایک موقعہ پر حضرت انس کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لئے گئے جو بیماری سے اس طرح کھو کھلا ہو چکا تھا جیسے کسی چوزے کے پر نوچ لئے گئے ہوں اور وہ بالکل نڈھال ہو چکا ہو، آپ نے اس سے پوچھا کیا تم خدا سے کوئی خاص دعا کرتے ہو، اس نے عرض کی : ہاں! میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! تو نے جو عذاب مجھے قیامت کے روز دیتا ہے وہ مجھے اس دنیا میں ہی دے دے۔آپ نے فرمایا سبحان اللہ ! تم اس کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔کیا پیارا کلام ہے۔کیسا دل کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ( کلام ہے) سبحان اللہ ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔خدا سے ایسی دعا نہ مانگا کرو کہ جس کی تم میں طاقت نہ ہو۔تم برداشت نہ کر سکو۔فرمایا : یہ دعا کیوں نہ کی : رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ساری باتیں اس میں آگئیں۔جس عذاب آخرت سے ڈرتے ہوئے تم دعا مانگ رہے تھے اس کا تو اس دعا میں ذکر موجود ہے۔یہ دعا مقبول ہو جائے تو عذاب آخرت کہاں؟ لیکن اس کے ساتھ یہ دنیا کی حسنات بھی دیتی ہے اور آخرت کی حسنات بھی دیتی ہے۔پس یہ دعائیں ہیں۔ان کا ایک پس منظر ہے۔کس طرح خدا کے پاک بندوں نے ان کی حکمتوں کو سمجھا۔کس طرح ان کے متعلق تلقین فرمائی۔جب بھی آپ اياك لعبد وإياك نستعين کہنے کے بعد یہ مشکل دعا مانگتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَیوم تو پھر ان لوگوں کی دعائیں بھی تو ساتھ مانگا کریں اور بعینہ سورۂ فاتحہ کے بعد ان دعاؤں کے لئے قرآن کریم کی آیات پڑھنے کا وقت آجاتا ہے تو ایسی آیات کا انتخاب کریں جن آیات میں ایسی دعائیں ہوں اور دعاؤں کے مضمون کو اگر آپ سمجھ جائیں تو ہر ضرورت کے لئے ہر