ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 187

187 لئے اس دعا کو بھی عظمت ہوئی اس دعا مانگنے والے کو بھی ایسی عظمت نصیب ہوئی جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ارشاد ایک اہم دعا کے متعلق دوسری دعا قرآن کریم ہمیں البقرۃ آیت ۲۰۲ میں یہ سکھاتا ہے : ربنا ايكا في الدُّنْيَا حَسَنَةُ وَ فِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یہ دعا در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ان بندوں کے متعلق بیان فرمائی گئی ہے جو مناسک حج ادا کرنے کے بعد خدا سے خیر مانگتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔وہ کیا کہتے ہوئے واپس آتے ہیں : ربنا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةٌ وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ اے خدا! ہمیں دنیا کی حسنات بھی عطا فرما اور آخرت کی حسنات بھی عطا فرما اور عذاب نار سے بچانا۔یہاں حسنہ اور فضل میں ایک فرق ہے جو آپ کو یا د رکھنا چاہیے ورنہ آپ کی دعا مکمل نہیں ہوگی۔فضل عموما دنیاوی فوائد کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر چہ دوسرے فوائد کے لئے بھی لیکن حسنہ کا زیادہ تر تعلق نیکیوں سے ہے اور کوئی ایسی خیر حسنہ میں داخل نہیں ہوتی جو نیکی سے خالی ہو۔اس لئے حسنہ میں جو حسن ہے وہ دوسری دعاؤں میں ویسا پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مراد یہ ہے کہ ہمیں ہر اچھی چیز دے۔دنیا میں سے بھی اچھی چیزیں دیں یعنی دنیاوی لحاظ سے بھی اچھی ہوں اور تیرے حضور بھی وہ اچھی اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھنے کے لائق ہوں اور پھر آخرت میں سے بھی بہترین چیزیں عطا فرما اور دین میں سے بھی اس حصے پر عمل کرنے کی توفیق بخش جو سب سے زیادہ حسین ہے یعنی تعلیم کا وہ حصہ جو چوٹی کا تعلیم کا حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دعا کے متعلق فرمایا : ”ہماری جماعت ہر نماز کی آخری رکعت میں بعد رکوع مندرجہ ذیل دعا بکثرت پڑھے۔رَبَّنَا تِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ وَ قِنَا عَذَابٌ النَّارِ " er (الملفوظات جلدا ص۹)