ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 12
: 12 چیزیں انسان کی نظر میں محمود بن گئی ہوں، قابل حمد بن گئی ہوں تو جب وہ خدا کے حضور روتا ہے تو حمہ کی وجہ سے نہیں روتا۔وہ اس وجہ سے روتا ہے کہ اس کی طلب نہیں پوری ہو رہی۔بیمار جب چھینیں مارتا ہے تو کسی تکلیف کی وجہ سے چھینیں مارتا ہے۔ضروری تو نہیں کہ اس کی چیخوں سے اس کا علاج ہو جائے۔علاج تو علاج کے علم کے ساتھ ہوتا ہے۔پس عبادات میں بھی ایک سائنس ہے۔دعاؤں کی بھی ایک سائنس ہے جو دعائیں مستجاب ہونے کا حق رکھتی ہیں وہی مستجاب ہوتی ہیں۔بعض دفعہ وہ آنسوؤں سے خالی بھی ہوں۔ابھی دعا نہ بھی بنی ہوں تب بھی وہ مقبول ہو جایا کرتی ہیں اور اس کا راز اسی میں ہے کہ سورۂ فاتحہ کو آپ سمجھیں اور حمد کے مضمون کو خدا تعالیٰ کی چار صفات پر اطلاق کرتے چلے جائیں پھر جب ایاک نعبد کہیں تو اپنے نفس کا جائزہ لیں اور غور کریں کہ کہاں کہاں آپ کی عبادت واقعہ حمد سے لبریز ہے اور کہاں کہاں خالی ہے۔اپنی روزمرہ کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالیں تو ايَّاكَ نَعْبُدُ کا مضمون ہی ایک ایسا مضمون ہے جو آپ کے قدم روک لے گا اور آپ کبھی بھی اس مضمون سے نئے نکات حاصل کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔سورۂ فاتحہ کا ایک مضمون بھی ایسا نہیں جسے انسان ساری زندگی کے غور و خوض کے بعد ختم کر سکے تو بتائیے کون کیا اکتاہٹ کا مقام ہے۔اکتاہٹ پیدا کیسے ہو سکتی ہے۔اکتاہٹ تو ہوتی ہے جب ایک چیز بار بار اسی شکل میں سامنے آئے۔خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ تعارف ملتا ہے کہ كل يوم مُونِي شَأْنٍ - فَياتي الآءِ رَبِّكُمَا تُكذبن (سورة الرحمن ۳۴۳۰) خدا کی ہستی ایسی ہے کہ ہر لحظہ اس کی شان بدل رہی ہے اس سے انسان کیسے بور ہو سکتا ہے۔اگر بدلتی ہوئی شان دیکھنے کی استطاعت کسی میں پیدا ہو جائے اسے ایسی آنکھیں نصیب ہو جائیں جو بدلتی ہوئی شان کو دیکھ سکیں تو اس کے لئے تو خدا تعالیٰ کبھی پرانا ہو ہی نہیں سکتا اور سورۂ فاتحہ کے شیشوں سے آپ خدا کی بدلتی ہوئی شان دیکھ سکتے ہیں۔یہ سورۂ فاتحہ وہ آلہ ہے۔جیسے دور بین یا خوردبین۔بعض چیزوں کو خاص نیج سے قریب سے اسے دور سے دیکھنے کے لئے اسی قسم کے آلے یا کیمرے استعمال کئے جاتے ہیں۔اسی طرح سورۃ فاتحہ کو بھی ایک صاحب بصیرت انسان خدا تعالیٰ کی صفات دیکھنے اور اس کی نئی نئی