ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 149
149 نے مجھے ڈال دیا تھا پھر فرمایا وہ کہے گا کہ يُوَيدَى لِيَتَنِي لَمْ اتَّخِذَ فُلانا خليلا صرف انعمت علیہم کا مضمون نہیں ہے بلکہ غَيْرِ المَغضُوبِ عَلَيْهِمْ کا مضمون بھی بیان ہوا ہے وہ کہے گا وائے حسرت اے کاش میں فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بناتا اور اس کے طریق اختیار نہ کرتا۔لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكَرِ بَعْدَاء جارتی۔اس نے مجھے ذکر ملنے کے بعد پھر مجھے اس ذکر سے گمراہ کر دیا۔دکان الشَّيْطَنُ الانْسَانِ خَذولا اور شیطان کی تو یہ فطرت ہے کہ وہ موقعے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور گمراہ کرنے کے بعد پھر آپ غائب ہو جاتا ہے۔اور انسان کو مصیبتوں - میں مبتلا چھوڑ کر اس سے دغا بازی کر جاتا ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوڑا اور رسول خدا کے حضور یہ شکایت عرض کرے گا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا ہے، پس ذکر سے مزاد قرآن کریم ہے گویا یہ مضمون ہمیں صرف ماضی میں نہیں بلکہ حال کی دنیا اور ہمیشہ مستقبل کی دنیا میں لے جاتا ہے۔آنے والی نسلوں کو مستقبل کی دنیا میں لے جاتا ہے اور موجودہ نسلوں کو حال کی دنیا میں۔اور یہ بتاتا ہے کہ وہ راہیں ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں جن کو تم انعمت علیم کی راہیں کہتے ہو اور وہ راہیں بھی صرف ماضی سے تعلق نہیں رکھیں جن کو تم مغضوب علیہم کی راہیں کہتے ہو بلکہ قرآن کریم اور سنت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شکل میں آج تمہارے سامنے پڑی ہیں۔پس تم کیسی دعائیں مانگتے ہو کہ اِهْدِنَا النفط المُستَقِية اے خدا ہمیں صراط مستیقم دکھا اور ان راہوں پر چلا جو ان لوگوں کی راہیں تھیں جن پر تو نے انعام فرمایا اور وہ راہیں تمہارے سامنے کشادہ اور کھلی پڑی ہیں اور تم ایک قدم آگے نہیں بڑھاتے اور پھر یہ دعا مانگتے ہو کہ مغضوب علیہم جو لوگ ہیں ان کی اور ضالین کے گروہ کی راہوں سے ہمیں بچا۔ان راہوں پر ہم قدم نہ ماریں جن پر مغضوب چلتے رہے اور جن پر گمراہ لوگ چلتے رہے اور جب ان دو راہوں میں سے ایک اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو روز مرہ میں تم مغضوب اور ضالین کی راہ پر چل پڑتے ہو لیکن قیامت کے دن تم حسرت سے یاد کروگے اور یہ کہو گے اے کاش ایسا نہ ہوتا۔کاش !! ہم اس سے پہلے مرچکے ہوتے کہ