ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 141

141 الفاظ میں دعائیں کرنا دل کے اندروہ نرمی اور گداز کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے کہ جس میں پھر دعا کا بیج بویا جاتا ہے اور ایک شجرہ طیبہ بن کر اگتا ہے، جس کی شاخیں آسمان تک پہنچتی ہیں اور ان شاخوں کو قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ ضرور پھل لگتا ہے اور ہر موسم میں پھل لگتا ہے۔یہ دعا کا شجر ایسا ہے جو کلمہ طیبہ کی صورت میں دل میں پیوست ہوا اور پھر آسمان تک اس کی شاخیں بلند ہوں تو اسے کسی بہار کی انتظار نہیں ہوتی وہ خود اپنی ذات میں بہار کا منظر پیش کرنے والا ایک دائم ایک سدا بہار ایسا درخت بن جاتا ہے جسے پھل لگتے ہی رہتے ہیں۔پس قرآن کریم نے ایسے درخت کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہی فرمایا کہ خُلحين ہر حالت ہر موقعہ پر ہر کیفیت میں اس کو خدا تعالٰی کے فضل سے پھل عطا ہوتے رہتے ہیں اور وہ کبھی بھی پھولوں سے محروم نہیں رہتا۔پس یہ انبیاء کی وہ دعائیں ہیں جو ایسے دلوں سے نکلی تھیں جو دل دعاؤں کو قبول کرنے کے لئے انتہائی درجے پر تیار ہو چکے تھے اور جس کیفیت میں وہ دعائیں دل سے اٹھی تھیں ان کیفیتوں کا ایک اثر پیچھے چھوڑ گئی ہیں اور وہ الفاظ ایسے ہیں جو زمانے کے ساتھ کبھی مر نہیں سکتے۔وہ کیفیتیں ایسی ہیں جو ان الفاظ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو چکی ہیں۔پس اگر آپ غور کر کے انبیاء کے الفاظ میں دعائیں کریں اور خصوصا" حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ میں دعائیں کریں تو آپکی دعاؤں کو بہت بڑی عظمت ملے گی اور پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون لوگ تھے ؟ تو اگرچہ آپ خدا کے حضور اپنے وجود کو کلیتہ ” خالی کر چکے ہوں گے لیکن ایک اور حمد آپ کو عطا ہوگی جو آسمان سے عطا ہوگی اور ان آسمانی وجودوں کی معرفت آپ کو عطا ہوگی۔نیکیوں کے حوالہ سے دعائیں نہ کریں اس ضمن میں ایک اور غلط فھی بھی دور ہونی چاہیے۔میں نے گزشتہ خطبے میں یہ کیا تھا کہ دعا کرتے وقت اپنی کسی تعریف کے حوالے سے دعا نہیں کرنی چاہئیے۔اپنی کسی نیکی کے حوالے سے دعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے آپ کو خالی کر کے ایسا فقیر بنا کے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، جس کو دیکھ کر سخت دل کو بھی رحم آجائے ایسی کیفیت