ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 127

127 گے۔پس ایک طرف تو یہ امید کا پیغام بھی ہے اور دوسری طرف ایک عبرت کا پیغام بھی ہے اور یاد رکھنے کے لائق بات یہ ہے کہ یہود کا نام سورہ فاتحہ میں کیوں نہیں لیا گیا۔اس لئے کہ قرآن کریم یہ اعلان کرتا ہے کہ من حیث القوم مغضوب ہونے کے باوجود ان کے اندر آج بھی نیک لوگ موجود ہیں۔آج بھی حق پرست لوگ موجود ہیں۔آج بھی موجد موجود ہیں۔آج بھی خدا سے محبت کرنے والے موجود ہیں۔اگر انہیں اسلام کا صحیح پیغام پہنچتا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے حسن سے ان کی شناسائی ہوتی تو وہ ضرور اسلام قبول کر لیتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کے غلاموں میں شامل ہو جاتے۔مگر اپنے اپنے ماحول میں کئے ہوئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں۔اس پر یقین رکھتے ہیں۔اس کے لئے قربانیاں دیتے ہیں۔پس دیکھئے سورۂ فاتحہ نے کس حد تک عدل کا حق ادا فرمایا ہے۔مغضوب کی تاریخ بھی ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی لیکن ساتھ یہ بھی متفقہ کر دیا کہ کسی ایک قوم کو ان معنوں میں مغضوب سمجھنا کہ ان میں پھر کوئی نیک آدمی پیدا نہیں ہو سکتا یہ غلط ہے اس لئے جہاں قومی طور پر مغضوب فرمایا وہاں نام کسی کا نہیں لیا اور جہاں قرآن کریم نے نام لیکر یہود کو مغضوب قرار دیا وہاں ساتھ ساتھ استثناء کرتا چلا گیا اور بار بار ہمیں متنبہ کیا کہ خبردار! من حیث القوم یہود کو مغضوب" قرار دیگر تمام کے تمام کو رونہ کر دینا اور تمام کے تمام کو جہنمی قرار نہ دے دینا۔اسی طرح من حیث القوم عیسائیوں کو ضال" قرار دیتے ہوئے یعنی گمراہ قرار دیتے ہوئے پوری طرح رو کر کے نعوذ بالله من ذلك یہ دعویٰ نہ کر بیٹھنا کہ یہ سارے کے سارے جہنمی گندے اور خدا سے دور لوگ ہیں۔بار بار قرآن کریم نے اس بات کا اظہار فرمایا کہ ان میں بھی بہت اچھے لوگ ہیں۔ان میں بھی نیک ہیں۔اخلاص سے ایمان لانے والے ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ جب تک یہ اپنے سچائی کے تصور کے مطابق اپنی تعلیمات پر عمل کرتے رہیں گے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ان کے اجر خدا کے ذمہ ہیں۔پس سورۂ فاتحہ نے جہاں مغضوب اور ضالین کا ذکر قوموں کا نام لئے بغیر فرمایا وہاں ہماری توجہ اس طرف بھی مبذول فرما دی اور اس میں بھی ہمارے لئے ایک امید کا پیغام ہے کہ اگر ایسی