ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 117
117 رہی ہوتی ہے کہ اس وقت اس کا خدا خود اس کا نفس بن چکا ہوتا ہے اس کا ذہن کبھی اس طرف نہیں جاتا یا یہ کہنا چاہئیے کہ اکثر نہیں جاتا کہ یہ آواز کیسے پیدا ہوئی؟ کس نے اس کو عطاء کی؟ اس کی ذاتی کوشش کا اس میں کتنا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عطاء کا کتنا دخل ہے؟ اگر اس مضمون کی طرف توجہ مبذول ہو تو ہر گوتیے کی خود اپنی نظر میں کوئی بھی حیثیت باقی نہ رہے۔ایک ایسے خاندان میں پیدا ہونا جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اچھا گلا عطا کیا گیا ہو۔ایسے ماحول میں پیدا ہونا جہاں آواز کو مزید مانجھ کر اور صیقل کر کے زیادہ خوبصورت اور دلکش بنایا جا سکتا ہو یعنی ایسے ذرائع مہیا ہونا۔ان بیماریوں سے پاک رہنا جو گلے کو خراب کرتی ہیں اور آواز کو تباہ کر دیتی ہیں۔یہ ساری باتیں بھی قابل غور ہیں مگر سطحی ہیں۔ان سے اور نیچے اتر کر جب آپ صوتی نظام کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح ہر انسان کے گلے میں خدا تعالیٰ نے ایک صوتی نظام قائم فرمایا ہوا ہے جو اربوں سال کے عرصے میں ترقی کر کے یہاں تک پہنچا ہے اسے مانجھنے اور میٹل کرنے اور اسے چپکانے اور اس کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے میں ہزار ہا زندگی کی نسلیں اس سے پہلے اپنے اپنے دور طے کرنے کے بعد ماضی کا حصہ بن گئیں اور کسی کو علم نہیں کہ ان تجارب میں جو قدرت نے ان کے ساتھ کئے کیا کیا کاروائیاں آواز کے نظام کو مکمل کرنے کے لئے کی گئیں۔جو جاندار ہمیں آج دکھائی دیتے ہیں ان کی زندگی کا آغاز سے لے کر اب تک کا مطالعہ بھی ہمیں بہت کچھ سبق دیتا ہے اور انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح آواز کا آغاز ہوا حالا نکہ اس سے پہلے یہ کائنات بالکل خاموش تھی۔زندگی موجود تھی لیکن زندگی کا ایک جزو زندگی کے دوسرے جزو تک آواز کے ذریعہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔یہ مضمون پہلے بھی میں نے اس حد تک بیان کیا ہے لیکن اب میں اس تعلق میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اچھی آواز عطا کی ہے، اگر اس کا ذہن ان چیزوں کی طرف کبھی منتقل نہ ہو اور ہمیشہ اپنی ہی تعریف میں ڈوب جایا کرے تو اس کے دل سے ایک بت پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جو مزید طاقت ور ہوتا چلا جائے گا اور اس کے باقی وجود پر بھی قابض ہو جائے گا کیونکہ شرک کا بت اپنے دائرے تک