ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 116
116 بے جان حسن ہو یا جاندار حسن ہو - رعب اور طاقت سے محبت کریں گے مگر ان کے پیچھے جو ذات جلوہ فرما ہے اس کا دھیان روز مرہ کی زندگی میں انسان کو نہیں آتا تو ایسا انسان جب پانچ وقت یا اس سے بہت زیادہ مرتبہ ہر نماز میں کئی رکھتوں میں الحمد يا رب العلمین کا اقرار کرتا ہے اور اثبات کرتا ہے تو اس اثبات اور اقرار میں کوئی خاص حقیقت نہیں ہوتی۔باوجود اس کے کہ وہ یہ کہنے میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا لیکن یہ آواز اس کی روز مرہ کی زندگی کا مظہر نہیں۔اس کی روز مرہ کی زندگی کی تصویر نہیں کھینچ رہی۔حمد کی راہ میں سب سے بڑی روک اس ضمن میں آج خصوصیت کے ساتھ اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مجھے یاد نہیں کہ پہلے اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی کہ نہیں) کہ خدا تعالیٰ کی حمد کی راہ میں سب سے بڑی روک نفس انسانی کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑا بت ہر انسان کے اندر موجود ہے کیونکہ باہر کی دنیا کی حمد میں انسان غفلت کے نتیجے میں بسا اوقات خالق کی حمد سے غافل ہو جاتا ہے لیکن نفس کا بت ایسا ہے جو باقاعدہ شرک کے خیالات پیدا کرنے والا ہے اور اس سے بڑا اور کوئی بت نہیں جو خدا کے مقابل پر الوہیت کا دعوی کرے اور اگر آپ روز مرہ کی زندگی میں اپنے نفوس کا اپنی نیتوں کا تجزیہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ موحد ہوتے ہوئے بھی بسا اوقات جب آپ الحمد للہ رب العلمین کہتے ہیں کہ تمام ترحم صرف اللہ ہی کے لئے ہے تو دل کے گوشے سے ایک آواز اٹھتی ہے۔الْحَمْدُن - الْحَمْدَى - سب حمد تو میرے لئے ہے اور میرے لئے ہے۔چنانچہ یہ آواز اگر چہ ہر انسان کو اس طرح سنائی نہیں دیتی کہ وہ اسے محسوس کرے اور اس لئے وہ اس آواز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا لیکن فی الحقیقت یہ آواز ہے جو روز مرہ کے تجارب میں انسان اگر توجہ سے کوشش کرے تو سن سکتا ہے۔مثلاً ایک اچھی آواز والا گویا ہے۔جب وہ مجمع کے سامنے بہت خوبصورت آواز میں خوش الحانی کے ساتھ نظم پڑتا ہے تو وہ واد جو اس کو ہر طرف سے ملتی ہے اس کو اپنے نفس میں اس قدر مطمئن کر رہی ہوتی ہے، اس قدر اسکو لذت عطا کر