ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 113

113 لائق نہ رہے۔میں الحمد لله رب العلمین میں ان تمام صفات حسنہ کا بھی ذکر آگیا جن کا موسموں کے تغیر و تبدل سے تعلق ہے اور موسموں کے تغیر و تبدل کے ساتھ بہت گہرے مضامین وابستہ ہیں۔بے شمار صفات کا اس سے تعلق ہے تو اپنے علم کے مطابق ہم ربوبیت کے نئے مضامین پر اطلاع پا سکتے ہیں اور جتنا ہم علم بڑھائیں گے اتنا ہی زیادہ ہم دنیا میں خدا تعالی کی سیر کریں گے۔دنیا کی سیر کر کے خدا کے مزے اٹھائیں سیر فی اللہ جو صوفیوں کی اصطلاح ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی ذات میں سیر کرو۔باہر کی سیر تو ایک سیر ہوتی ہی ہے لیکن اس سیر کا فائدہ کوئی نہیں۔سیروا في الارض کا کوئی فائدہ نہیں اگر انسان ”سیر فی اللہ کے لائق نہ بن سکے۔پس دنیا کی سیر کریں لیکن مزے خدا کے اٹھائیں۔اگر دنیا کی سیر کر کے دنیا ہی کے مزے اٹھا کر رہ جائیں گے تو آپ کی ساری زندگی بیکار جائے گی۔یہ وہ مضمون ہے جو سورۂ فاتحہ ہمیں سکھاتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اپنی نماز میں آپ سورہ فاتحہ کے اس پہلے جزو پر ہی غور کرنا شروع کریں تو ساری زندگی کی نمازیں لذت سے بھر سکتی ہیں اور آپ اس مضمون پر عبور نہیں حاصل کر سکتے۔یہ مضمون ہمیشہ آپ پر غالب رہے گا۔