ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 112
112 قبل طلوءِ الشمیں سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے۔یہ دو مختلف بدلتی ہوئی حالتیں ہیں ان سب کا تعلق ربوبیت کے ساتھ ہے کہ سبح بحمدِ ريك فرمایا۔اس مضمون کو بھی سائنس دانوں نے جتنا کھنگالا ہے اتنا ہی اس کے پیچھے ان کو عظیم معرفتوں کے خزانے دکھائی دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ سورج کا نکلنا اور سورج کا غروب ہونا اور وہ نظام جس کے ساتھ سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کا تعلق ہے، یہ زندگی کی سپورٹ (SUPPORT) کے لئے اور زندگی کو یہاں قائم رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اگر سورج کا یہ نکلتا اور غروب ہونا نہ ہوتا تو اس کرہ ارض پر زندگی پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی۔زندگی پیدا ہو بھی جاتی تو مرجاتی اور اس کے باقی رہنے کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔اب یہ جو فرمایا که سیخ بحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا تو اس میں غور کرنے کی کھڑکیاں ہمارے سامنے کھول دیں۔فرمایا کہ موسموں کے بدلنے پر غور کرو۔دن اور رات کے بدلنے پر غور کرو۔انکی بدلتی ہوئی نسبتوں پر غور کرو اور یہ معلوم کرو کہ سورج نکلنے سے پہلے پہلے وہ کیا تغیرات برپا ہو رہے ہوتے ہیں جو ربوبیت کے جلوے تم تک پہنچانے میں مددگار ہوتے ہیں یا جن کے ذریعے ربوبیت اس دنیا میں جلوہ گر ہوتی ہے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کون سے تغیرات لازم ہوتے ہیں جو سورج کو غروب کرنے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ زندگی اس دنیا میں باقی نہ رہ سکتی اور ربوبیت کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔پس سورج کے طلوع سے بھی ربوبیت کا ہے اور سورج کے غروب سے بھی ربوبیت کا تعلق ہے اور وقت کے بدلنے کے ساتھ ربوبیت مختلف رنگ میں جلوہ گر ہے۔اب جیسا کہ میں نے اشارہ آپ کو بتا دیا ہے کہ سائنس دانوں نے اس مسئلے پر بھی غور کیا ہے اور تمام دنیا کے سائنس دان جو اس مضمون سے تعلق رکھتے ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ موسموں کے ادلنے بدلنے اور دن کے اولنے بدلنے کا زندگی کے ساتھ اتنا گہرا رابطہ ہے اور زندگی کے قائم رہنے اور اس کی ترقی کے ساتھ اتنا گہرا رابطہ ہے کہ اس میں اگر آپ تھوڑ سا تغیر و تبدل بھی کر دیں تو یہ رابطے ٹوٹ جائیں اور یہ کرہ ارض جس پر ہم بستے ہیں یہ زندگی کے بہانے کے