ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 98
98 اٹھائیں اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ بے بسی کے عالم میں خدا کے حضور بچھ جائیں کہ اے خدا! ان بڑی بڑی طاقتوں کے شر کے ارادوں کو باطل کردے اور جوان کی خیر ہے وہ باقی رکھ۔اپنی دعاؤں کو عصبیتوں کے شر سے محفوظ کریں ہمیں کسی قوم سے من حیث القوم نفرت کی اجازت نہیں ہے۔نہ نفرت ہمارے خمیر میں داخل فرمائی گئی ہے اس لئے ہم دنیا کی جاہل قوموں کی طرح مغربی طاقتوں کے خلاف نہ دعائیں کر سکتے ہیں نہ نفرت کے جذبے رکھ سکتے ہیں۔ہم شر سے متنفر ہیں اور اپنی دعاؤں کو خصوصیت کے ساتھ شر کے خلاف رکھیں۔قومی اور عصبی رنگ میں بعض قوموں کی ہلاکت کی دعائیں نہ کریں۔یہ دعا کریں کہ اے خدا! جو مشرق میں تیرے عاجز بندے ہیں ان کے ساتھ بھی کچھ شر وابستہ ہیں ان کے شہر کو بھی مٹادے اور جو مغرب کی عظیم طاقتیں ہیں جو ساری دنیا پر غالب ہیں ان کے شر کو بھی مٹا دے۔ان کا شراس لئے زیادہ خطرناک ہے کہ طاقتور کا شہر ہمیشہ زیادہ خطرناک ہوا کرتا ہے۔طاقت ور کا شر زیادہ پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔طاقت ور کا شرونیا کی خیر کو مٹا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے پس ہم یہ نہیں کہتے کہ تیسری دنیا کی قوموں میں شر نہیں ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ مشرق معزز ہے اور مغرب ذلیل ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اس وقت مغرب میں جو شر پھیلانے کی طاقت ہے ویسی طاقت تاریخ میں کسی قوم کو کبھی عطا نہیں ہوئی اور یہ بات حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ آخری زمانے میں جب دجال ظاہر ہو گا تو اس کا اتنا شردنیا میں پھیلے گا اور اسے شر پھیلانے کی اتنی طاقت نصیب ہوگی کہ جب سے دنیا بنی ہے خدا کے تمام انبیاء کو دجال کے شر سے ڈرایا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ آئندہ زمانے میں ایک شہر پھیلانے والی اتنی بڑی قوم بھی دنیا میں ظاہر ہوگی۔پس کسی عصبیت کے جذبے کی بناء پر نہیں کسی قومی یا نسلی تفریق کی بناء پر نہیں بلکہ خالصتہ ” ان پیشگوئیوں کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے صحیح نشانے کی دعا کریں ورنہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی دعاؤں میں آپ کی نیتوں کا شر شامل ہو چکا ہو۔قومی عصبیتوں کا شر شامل ہو چکا ہو۔نسلی تفاوت کا شر