زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 91
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 91 جلد چهارم شکست دینا ہے تو وہ کس طرح اس میں فتح حاصل کر سکتی ہیں۔فتح تو ضرور ہو گی کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا لیکن یہ فتح ان سپاہیوں سے نہیں ہوگی بلکہ نئے سپاہیوں سے ہوگی جو خدا تعالیٰ پیدا کرے گا۔ہمارے استادوں اور استانیوں کو چاہئے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کو اسلام کے حقیقی سپاہی بنا ئیں تا کہ اخلاق اور مذہب کے ساتھ دنیا پر فتح حاصل کی جائے۔یاد رکھو اخلاق کی فتح کے مقابلہ میں دوسری فتوحات کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔دلائل اور اخلاق ایک بہت بڑا حربہ ہیں جن سے دنیا پر فتح حاصل کی جاسکتی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں رسول کریم ﷺ سے فرماتا ہے کہ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ء یعنی تو اس چیز سے جہاد کر جو تجھے دی گئی ہے اور یہی جہاد اکبر ہے۔پس قرآن کریم سے بڑھ کر اور کوئی حربہ نہیں۔لیکن اس وقت تک ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سکول کی لڑکیوں میں وہ اوصاف پیدا نہیں ہوئے جو قرآن کریم کا منشاء ہے۔ابھی تک ان میں سے پوری طرح خیانت ، جھوٹ ، فریب ، لڑائی ، چوری اور غیبت کی عادتیں نہیں گئیں۔مثلا کتا بیں چرانے کی شکایتیں بعض اوقات سنی جاتی ہیں۔اگر یہ باتیں ان میں پائی جاتی ہیں تو اس تعلیم کا کیا فائدہ۔یہ گند تو دنیا میں پہلے ہی موجود تھا اس میں کمی کون سی کی گئی ہے۔کتابیں پڑھا دینا یا انہیں پڑھ لینا تو کوئی چیز نہیں حقیقی سے عمل ہے۔قرآن شریف نے اس شخص کو جو کتا ہیں پڑھ لیتا ہے مگر عمل نہیں کرتا گدھا کہا ہے کیونکہ وہ کتابوں کو اپنے اوپر اٹھائے پھرتا ہے 6 اور چونکہ وہ عمل نہیں کرتا اس لئے اس میں اور گدھے میں کوئی فرق نہیں۔ہماری طالبات کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ یہاں ان کی تعلیم و تربیت پر جو روپیہ صرف ہوتا ہے وہ گورنمنٹ کا روپیہ نہیں۔یہ روپیہ ان غریب اور کنگال لوگوں کا ہے جنہوں نے خدا کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑا۔خدا کے لئے اپنے ماں باپ کو چھوڑا۔دوستوں کو چھوڑا اور بعض حالات میں جائیدادوں کو چھوڑا۔اور باوجود اس کے نہایت تنگی کے وقت اور اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال کر آنہ آنہ جمع کیا جس سے تمہارے لئے