زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 90

زریں ہدایات (برائے طلباء) 90 جلد چهارم بہر حال یہ امر اچھی طرح یاد رکھو کہ تم پر نہ صرف سکول کی ذمہ داری ہے، نہ صرف انجمن کی ذمہ داری ہے اور نہ صرف ماں باپ کی ذمہ داری ہے بلکہ اسلام کی طرف سے بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہے جسے دشمنوں کے نرغہ سے بچانے کے لئے ایک فوج تیار کی جا رہی ہے اور تم اس فوج کے سپاہی ہو۔تم ہر طرف سے گھرے ہوئے ہو گے اور دشمنوں کے نرغہ میں ہو گے۔ایسی حالت میں جس ہمت اور جرات کا بروئے کار لانا ضروری ہوتا ہے اس کے لئے تمہارا ابھی سے تیار ہونالازمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ کوئی بادشاہ تھا اس کے دماغ میں خرابی پیدا ہو گئی۔اس نے کہا کہ فوج کے اتنے اخراجات برداشت کرنے کا بھلا کیا فائدہ ہے یہ قصاب جو بکروں کو ذبح کرتے رہتے ہیں ان سے ہی فوج کا کام لینا چاہئے۔چنانچہ اس نے حکم دے دیا کہ انہیں چھریاں دے دی جائیں تا کہ وہ جنگ میں دشمن سے لڑسکیں۔اس نے فوجوں کو برخاست کر دیا اور قصابوں کو کہا کہ جب کوئی لڑائی پیش آئے تو تم اپنی چھریوں سے دشمن کا مقابلہ کرو۔بادشاہ کی اس حالت کو دیکھ کر ایک غنیم نے اس کے ملک پر چڑھائی کر دی۔اس نے ملک کے قصابوں کو حکم دیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں۔وہ اپنے دل میں خوش تھا کہ مفت میں ساری لڑائی لڑی جائے گی۔غرض لڑائی ہوئی اور تھوڑی دیر کے بعد تمام قصاب ظلم ظلم پکارتے ہوئے دوڑتے آئے اور کہا کیا یہ بھی کوئی لڑائی ہے کہ ہم تو پہلے دشمن کے سپاہیوں کو گلے سے پکڑتے ہیں ، پھر زمین پر لٹاتے ہیں اور پھر چھری ان کے گلے پر پھیرتے ہیں لیکن وہ بے تحاشا ہمیں مارتے چلے جاتے ہیں۔نہ رگ دیکھتے ہیں نہ بٹھا ، بس تلوار مارتے ہیں اور گرا دیتے ہیں۔یہ کوئی لڑائی نہیں۔انہیں سمجھایا جائے۔ابھی یہ باتیں ہی ہو رہی تھیں کہ دشمن کی فوج شہر میں داخل ہو گئی اور بادشاہ کو قید کر لیا گیا۔پس اگر ہماری آئندہ نسلوں میں اسلام اور احمدیت حقیقی طور پر داخل نہیں ہوگی اور وہ اس جنگ کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہوں گی جس میں انہوں نے سارے مذاہب کو