زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 41

زریں ہدایات (برائے طلباء) 41 جلد چهارم کے صرف چار کمرے تھے۔آریہ سکول میں طلباء پر جو اثر ڈالا جاتا تھا وہ تو بالکل ظاہر تھا کہ وہ خاص طور پر ہندو مذہب کی تبلیغ کرتے تھے۔لیکن سرکاری پرائمری سکول میں بھی آریہ مدرس اسلام پر حملہ کرتے رہتے تھے۔اس پرائمری سکول میں میں بھی کچھ عرصہ پڑھا ہوں۔اُن دنوں کا ایک واقعہ مجھے اب بھی خوب یاد ہے کہ ایک دن جب میرا کھانا آیا جس میں کلیجی کا سالن تھا تو اسے دیکھ کر ایک طالب علم نے حیرانی سے اپنی انگلی دانتوں میں دبائی اور کہا یہ تو ماس ہے اور اس کا کھانا حرام ہے۔اگر چہ آخر میں وہ شخص احمدی ہوا اور مخلص احمدی ہوا مگر اُس وقت اس نے بڑی حیرانی کا اظہار کیا۔بہر حال سرکاری سکول میں بھی اس قسم کا اثر ڈالا جاتا تھا۔اگر چہ اب یہ باتیں ان سکولوں میں اور آریہ لوگوں میں کم ہوگئی ہیں اور ماس کی عظمت میں بھی فرق آ گیا ہے۔لیکن اب اور قسم کی برائیاں ہیں جو پیدا ہوگئی ہیں۔ہر زمانہ کے اثرات الگ الگ ہوتے ہیں اور ان کے بدل جانے سے ان کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی۔اُس زمانہ میں گوشت کی بڑی اہمیت تھی اور اب عورتوں کے پردہ کو زیادہ اہم قرار دیا جاتا ہے۔گو سوال بدل گئے ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح اسلام کی تعلیم کو مٹا دیا جائے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے جاری کرنے کی غرض یہ تھی کہ یہ سکھلایا جائے کہ اسلام کا ہر اپنے اندر فائدہ رکھتا ہے اور گو بعض دفعہ اسلام کا کوئی حکم نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے اس کی حکمت معلوم نہ ہو لیکن بہر حال وہ فائدہ مند ہی ہے۔اگر تمہارے دل میں بھی یہ احساس باقی ہو کہ اسلام کی فلاں بات قابلِ اعتراض ہے اور فلاں درست نہیں تو پھر تمہارا یہاں آنا اور تعلیم پانا لغو ہے اور اس کی ذمہ داری یا تو خود تم پر ہے یا تمہارے اساتذہ پر تمہارے تمام اقوال اور تمہارے تمام افعال سے ظاہر ہونا چاہئے کہ اسلام کی عظمت تمہارے دل میں ہے اور تمہاری چھوٹی سے چھوٹی حرکت سے واضح ہو کہ تم اپنے آپ کو اسلام کے ذمہ دار سمجھتے ہو۔سب سے ادب اور اخلاق سے پیش آتے ہو اور ایک اچھا نمونہ دکھاتے ہو۔غیروں پر تمہاری نمازوں کا اثر نہیں ہو سکتا کیونکہ سب کے سب لوگ تمہیں نماز پڑھتا ہوا دیکھ نہیں سکتے۔اور غیر مسلم نماز کی