زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 40
زریں ہدایات (برائے طلباء) 40 جلد چهارم طلباء کو اہم نصائح 29 جولائی 1935ء کو طلبائے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان موسمی تعطیلات پر اپنے گھروں کو جانے سے قبل حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے انہیں حسب ذیل نصائح فرمائیں:۔چونکہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ تم گھروں کو چھٹیاں گزار نے کے لئے جا رہے ہو اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ تمہارے گھر جانے سے پہلے تمہیں چند نصیحتیں کروں۔گو نصیحتیں ہر وقت کافی طور پر ہوتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی چونکہ وقت کے مناسب جو بات کہی جائے وہ خاص اثر رکھتی ہے اس لئے چند ایک باتیں کہ دیتا ہوں۔یہ سکول حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے قائم فرمایا تھا کہ ہماری جماعت کے بچے خصوصاً اور دوسرے مسلمانوں کے بچے عموماً غیر مسلموں کے اثر سے محفوظ رہیں۔اس سے پہلے ایک آریہ سکول ہوا کرتا تھا اور ایک سرکاری سکول بھی تھا جو اب بھی ریتی چھلہ کے قریب موجود ہے۔سرکاری سکول لوئر پرائمری تک ہوتا تھا اور آریہ سکول میں اس سے اوپر کچھ جماعتیں ہوتی تھیں۔اس وجہ سے مسلمانوں کے لڑکے اس میں داخل ہونے شروع ہو گئے۔آریہ مدرس ہمیشہ کچھ نہ کچھ باتیں اسلام کے خلاف طلباء کے کانوں میں ڈالتے رہتے تھے اور ان کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچتی رہتی۔اس سے تحریک ہوئی اور اپنا سکول کھولا گیا۔چونکہ اُن دنوں سکولوں کے جاری کرنے کے لئے زیادہ پابندیاں نہ تھیں اس واسطے جلدی ہی یہ سکول جاری ہو گیا۔اس کی عمارت بھی بہت بعد میں بنی۔پہلے یہ سکول مدرسہ احمدیہ کی موجودہ عمارت میں ہی ہوتا تھا اور صرف وہاں تک تھا جہاں اب درزی خانہ ہے اُس وقت اس