زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 316
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 316 جلد چهارم تحریک وقف زندگی حضور نے تحر یک وقف زندگی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا آپ کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے یقین دلایا ہے کہ بہت سے لڑکے دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس ارادہ کی تکمیل کرنے اور پھر عمر بھر اپنے عہد کو نبھانے کی توفیق دے۔آمین۔حضور نے فرمایا بعض لوگ سلسلہ کی آمد کو دیکھتے ہوئے یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید سلسلہ اب زیادہ واقفین کے اخراجات برداشت نہ کر سکے۔لیکن یہ ہرگز صحیح نہیں ہے۔در حقیقت اسلام کو ابھی لاکھوں واقفین زندگی کی ضرورت ہے۔باقی رہے ان کے اخراجات سو یہ اخراجات نہ قوم دے گی اور نہ ملک اور حکومت بلکہ خود خدا مہیا کرے گا اور ایسی جگہوں سے مہیا کرے گا جس کا تم گمان بھی نہیں کر سکتے۔ہماری عمر بھر کا یہ تجربہ ہے کہ اگر انسان خدا کا ہو جائے اور صحیح معنوں میں اس پر تو کل کرے تو وہ آپ اس کی ساری ضروریات کا کفیل ہو جاتا ہے۔اور ہر موقع پر غیب سے اس کی مدد اور نصرت کے سامان مہیا فرما دیتا ہے۔اس ضمن میں حضور نے حضرت خلیفہ اصبح الاول نے المسیح اپنے تئیں خدا کے سپر دکر و کے اور خود اپنی زندگی کے متعدد واقعات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔کبھی مت خیال کرو کہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو حضرت مسیح کے قول کے مطابق خدا تمہارے لئے آسمان سے اتارے گا اور زمین سے اگائے گا۔پس تم اخراجات اور تنخواہوں کا خیال نہ کرو۔بلکہ خدا پر توکل کرتے ہوئے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے لگا دو اور تبلیغ اسلام کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جاؤ۔پھر جماعت جوں جوں بڑھے گی تمہارے گزارے بھی بڑھیں گے مگر نیت کبھی یہ نہ کرو کہ تمہارے گزارے بڑھیں۔نیت ہمیشہ یہی رکھو کہ تم نے تنخواہوں اور گزاروں کا خیال کئے بغیر محض خدا کے لئے کام کرنا ہے۔پھر تم خود مشاہدہ کرو گے کہ کس طرح خدا تمہاری مددکرتا ہے۔