زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 305
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 305 جلد چهارم انسان بڑے سے بڑے خطرہ کے وقت بھی ایمان کو ہاتھ سے نہ جانے دے 3 اب تو کسی کو لاٹھی بھی لگ جائے تو وہ اپنے عقائد سے انکار کر دیتا ہے لیکن پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے ماننے والوں کو آروں سے چیرا جاتا تھا اور قسم قسم کی تکالیف دی جاتی تھیں تا کہ وہ خدا تعالی کی توحید سے انکار کر دیں لیکن وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہتے تھے۔اگر تمہارے سروں پر بھی آرے چلائے جائیں اور تمہیں تپتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے اور دوسری آفات تم پر وارد کی جائیں اور تم پھر بھی لا الہ الا اللہ کا نعرہ بلند کرو تو دنیا کی کون سی طاقت ہے جو تمہاری بنائی ہوئی حکومت کو غیر اسلامی حکومت کہہ سکے۔اگر کوئی شخص ہمیں آروں سے چیر دے یا ہتھوڑوں سے ہماری ہڈیاں توڑ دے لیکن پھر بھی ہمارے منہ سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ہی نکلے تو پھر اسلام ہی اسلام ہوگا اور ہر شخص اس کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا۔پس تمہیں اسلام کی اشاعت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔نہ صرف تم خود مسلمان بنو اور اپنے دل میں اسلام کی تعلیم کو راسخ کرو بلکہ اپنے گھروں میں بھی اسلامی تعلیم کو رواج دو۔خود بھی نمازیں پڑھو اور اپنے بیوی ، بچوں، بہنوں اور بھائیوں کو بھی نمازیں پڑھاؤ تو شیطان خود بخود بھاگ جائے گا۔اور غیر اسلام شیطان ہی تو ہے پھر تمہارے مسلمان بننے کے بعد شیطان بھاگے گا کیوں نہیں۔ہمارے ہاں پنجابی میں ایک مثل مشہور ہے کہ قریشیاں جتھے بانگ وتی اوتھے ڈنگر کے نہیں بنھیا یعنی جہاں قریشیوں نے اذان دے دی وہاں کوئی جانور نہیں رہ سکتا۔گویا مسلمان اب اسلام سے اتنے بیگانہ ہو گئے ہیں کہ اذان کو بھی وہ مصیبت سمجھنے لگ گئے ہیں حالانکہ اگر یہ درست بھی ہو کہ اذان دینے کی وجہ سے جانور بھاگ جاتا ہے تو بے شک بھاگ جائے اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ تو مل جائے گا اور خدا تعالیٰ سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے لیکن در حقیقت یہ بات ہی غلط ہے۔صحابہ بھی اذانیں دیتے تھے مگر انہوں نے یہ کبھی شکایت نہیں کی کہ اذان کی آواز سن کر ان کے جانور بھاگ جاتے ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں