زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 249

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 249 جلد چهارم جاتا ہے کہ آج ہم نے سکول جاتا ہے۔کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اپنے برتن صاف کرنے ہیں۔کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اپنے کپڑے بدلنے ہیں۔کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اتنے بجے سونا ہے۔لیکن اگر کبھی ہنسی میں میں نے اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کیا ہوا ہوتا ہے اور اُس پر پانچ سال بھی گزر چکے ہوں تو وہ ان کو نہیں بھولتا۔اس مثال سے اُن کے کیریکٹر کا پتہ لگتا ہے کہ وقت پر سونا، وقت پر سکول جانا، وقت پر کپڑے بدلنا اور کھانے کے برتن دھونا یہ سب بچوں کو سکھایا جاتا ہے اور یہ باتیں ان کے فرائض میں شامل کی جاتی ہیں۔اس رنگ میں انہوں نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ ان کا بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔پھر بچوں کے پالنے کا کام ایسا ہے جس میں بہت کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔یورپ میں تو عورتیں بچے کو پنگھوڑے میں ڈالتی ہیں۔چوسنی تیار کر کے اُس کے پاس رکھ دیتی ہیں اور مکان کو تالا لگا کر دفتر میں چلی جاتی ہیں۔جب بچے کو بھوک لگتی ہے تو وہ خود چوسنی اٹھا کر منہ سے لگا لیتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں اگر ماں دو منٹ کے لئے بھی بچے سے الگ ہو تو وہ اتنا شور مچاتا ہے کہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ماں بچے کو الگ نہیں کرتی۔اسے ہر وقت اپنے ساتھ چمٹائے پھرتی ہے۔بچہ پیدا ہوا اور اسے گود میں ڈال لیا اور پھر تین چار سال تک اسے گود میں اٹھائے پھرتی ہے بلکہ ہمارے ملک میں تو پانچ پانچ سال تک لاڈلے بچوں کو اٹھائے پھرتی ہیں۔یہ سارے رواج اس قابل ہیں کہ ان کو بدلا جائے۔جب تم ہمت کر کے ان رسوم کو بدلو گی تو آہستہ آہستہ باقی عورتوں میں بھی تمہارے پیچھے چلنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ سب سے پہلے روٹی پکانے کے طریق میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔عربوں میں بھی بازار سے روٹی منگوانے کا طریق ہے۔مگر وہاں تنور کی خمیری روٹی ہوتی ہے انگریزی روٹی کا رواج نہیں۔جتنے ملکوں میں بازار سے روٹی منگوانے کا طریق رائج ہے ان سب میں خمیری روٹی کھائی جاتی ہے۔خمیری روٹی ہمیشہ تازہ ہی پکا کر کھانی