زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 248

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 248 جلد چهارم ہو جائیں گی۔اب تو وہ پانچ سات روپیہ میں نو کر رکھ سکتے ہیں لیکن جس دن نو کر کی پچاس روپیہ تنخواہ ہوگئی اور سور و پیہ تمہیں ملا تو تم نوکر کہاں رکھو گی۔آجکل یورپ میں نوکر کی تنخواہ تین پونڈ ہفتہ وار ہے جس کے معنی آجکل کے پاکستانی روپیہ کی قیمت کے لحاظ سے 120 روپیہ ماہوار کے ہیں اور کھانا بھی الگ ہی دینا پڑتا ہے۔اس زمانہ میں اوپر کے طبقہ کی تنخواہیں گر رہی ہیں اور نچلے طبقہ کی تنخواہیں بڑھتی جا رہی ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں جو شخص سات آٹھ سو روپے ماہوار لیتا ہے وہ بھی ملازم نہیں رکھ سکتا صرف ہزاروں روپیہ ماہوار کمانے والا ملازم رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت میں یہی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت کا کھانا دوتین وقتوں میں کھالیا یا ایک وقت ہوٹل میں جا کر کھا لیا اور دوسرے وقت کے کھانے میں کولڈ میٹ استعمال کر لیا۔اس طرح بہت سا وقت اور کاموں کے لئے بھی بچ سکتا ہے۔پھر ہمارے ہاں ایک یہ بھی نقص ہے کہ بچوں کو کام کرنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔بچے دستر خوان پر بیٹھتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ امی! نوکر پانی نہیں لاتی کہ ہم ہاتھ دھوئیں۔امی ! نوکر نے برتن صاف نہیں کئے۔امریکہ میں ہر بچہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ اپنے کھانے کے برتن کو خود دھو کر رکھے اور اگر وہ نہ دھوئے تو اسے سزا ملتی ہے۔کیونکہ ماں اکیلی تمام کام نہیں کر سکتی۔اگر وہ کرے تو اس کے پاس کوئی وقت ہی نہ بچے۔وہ اسی طرح کرتی ہے کہ کچھ کام خود کرتی ہے اور کچھ کاموں میں بچوں سے مدد لیتی ہے۔غرض یورپ میں اول تو روٹی بازار سے منگوائی جاتی ہے۔پھر انہوں نے کولڈ میٹ اور اسی قسم کی چیزیں ایسی بنائی ہیں جن کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے اور بجائے اس کے کہ ہر وقت گرم کھانا کھایا جائے وہ اسی سے روٹی کھا لیتے ہیں۔پھر ایک وقت کا پکا ہو ا کھانا دو وقتوں میں کھا لیتے ہیں۔اور پھر کام میں بچوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح بہت سا وقت بچا لیا جاتا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک لطیفہ پڑھا جو امریکہ کے ایک مشہور رسالہ میں شائع ہو ا تھا اور جس سے ان لوگوں کے کیریکٹر پر خاص طور پر روشنی پڑتی ہے۔ایک باپ کہتا ہے کہ میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ میرے بچوں کو کبھی کبھی یہ تو بھول