زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 245
جلد چهارم زریں ہدایات (برائے طلباء ) 245 " حاصل ہیں اور دوسری طرف وہ مرد سے ڈرتی ہے۔اگر اس کا مرد سے ڈرنا ٹھیک ہے تو پھر وہ محکوم ہے اسے دنیا کے کسی فلسفہ اور قانون نے آزاد نہیں کیا۔اور اگر وہ مرد کے برابر قومی رکھتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ جھوٹ بولے اور اسی طرح صداقت پر قائم نہ رہے جس طرح آزاد مرد صداقت پر قائم رہتے ہیں۔یہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے لیکن تمہاری اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔تمہیں اپنے دل میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ تم آزاد ہویا نہیں۔اگر تم آزاد نہیں ہو تو کہو کہ خدا نے ہم کو غلام بنا دیا ہے اور چھوڑ واس بات کو کہ تمہیں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔اور اگر تم آزاد ہو تو خاوند کے ڈر کے مارے جھوٹ بولنا اور راستی کو چھپانا ایک لغو بات ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک کی عورت میں کام کرنے کی عادت بہت کم ہے۔لجنہ بنی ہوئی ہے اور کئی دفعہ میں اسے اس طرف توجہ بھی دلا چکا ہوں مگر ہنوز روز اول“ والا معاملہ ہے۔تمہیں اپنے کالج کے زمانہ میں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ عورت کی زندگی زیادہ سے زیادہ کس طرح مفید بنائی جاسکتی ہے۔یہ پرانا دستور جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اب بھی ہے کہ کھانا پکانا عورت کے ذمہ ہے اس میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں عورت صرف کھانے پینے کے کام کے لئے ہی رہ گئی ہے اس کے پاس کوئی وقت ہی نہیں بچتا جس میں وہ دینی یا مذہبی یا قومی کام کر سکے۔یورپ کے مد برین نے مل کر اس کا کچھ حل سوچا ہے اور اس وجہ سے اُن کی عورتوں کا بہت سا وقت بیچ جاتا ہے۔مثلاً یورپ نے ایک قسم کی روٹی ایجاد کر لی ہے جسے ہمارے ہاں ڈبل روٹی کہتے ہیں۔یہ روٹی عورتیں گھر میں نہیں پکاتیں بلکہ بازار سے آتی ہے اور مرد ، عورتیں اور بچے سب اسے استعمال کرتے ہیں۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ بادشاہ کے ہاں کیا دستور ہے آیا اُس کی روٹی بازار سے آتی ہے یا نہیں لیکن یورپ میں ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نوسو نانوے یقیناً بازاری روٹی ہی کھاتے ہیں اور اس طرح وہ اپنا بہت سا وقت بچالیتے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اس قسم کے کھانا پکانے کے برتن (Cooker) نکالے ہوئے