زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 244
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 244 جلد چهارم ہے جو تمہارے سامنے ہوگا اور اس مقصد کے لئے تمہیں دینی روح بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے تا کہ وہ مقصد پورا ہو جس کے لئے تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئی ہو۔دوسرے کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھلا کر دنیوی کاموں میں ہی منہمک ہو جائیں مگر چونکہ یہ کالج احمدیہ کالج ہے اس لئے تمہارا فرض ہوگا کہ تم دونوں دامنوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔اگر ایک دامن بھی تمہارے ہاتھ سے چھٹ جاتا ہے تو تم اُس مقصد کو پورا نہیں کر سکتیں جو تمہارے سامنے رکھا گیا ہے اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے۔پس ان ہدایات کے ساتھ میں احمد یہ زنانہ کالج کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جو اس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اس بات کو مد نظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے جو ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بے قرار اور مضطرب رکھے۔جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ٹکتا بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے اسی طرح تمہارے اندر وہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہئے جو اُس وقت تک تمہیں چین نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور اسلام کو اور احمد بیت اور اسلام کی حقیقی روح کو دنیا میں قائم نہ کر دو۔اسی طرح پروفیسروں کے اندر بھی یہ جذ بہ ہونا چاہئے کہ وہ صحیح طور پر تعلیم دیں ، اخلاق فاضلہ سکھائیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔تمہیں برا تو لگے گا مگر واقعہ یہی ہے کہ عورت بچ بہت کم بولتی ہے۔اس کے نزدیک اپنے خاوند کو خوش کرنے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور سچائی کی کم۔جب اسے پتہ لگتا ہے کہ فلاں بات کے معلوم ہونے پر میرا خاوند ناراض ہوگا تو بھی اس معاملہ میں جھوٹ ہی بولتی ہے سچائی سے کام نہیں لیتی۔کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہ اگر میں نے سچ بولا تو میرا خاوند ناراض ہو گا۔وہ ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ میں محکوم نہیں مجھے مرد کے برابر حقوق