زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 16

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 16 جلد چهارم بظاہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم دیکھتے کہ آپ بیمار رہتے اور آپ کی بیماری کے متعلق پیشگوئی تھی۔مگر باوجود اس کے آپ کے کاموں ، آپ کی رفتار اور آپ کی گفتار سے کوئی یہ نہ سمجھتا تھا کہ آپ کی اتنے سال کی عمر ہے جتنے سال کے آپ تھے۔آپ سیر کو جاتے اور میں نے آپ کو منگلیاں پھیرتے دیکھا ہے۔میں نے وہ رکھی ہوئی تھیں مگر کسی نے مانگیں اور میں نے دے دیں۔دراصل ورزش بیماریوں سے بچا نہیں سکتی البتہ کام کرنے کی طاقت پیدا کر دیتی ہے۔ایک دفعہ میں نے رؤیا دیکھا کہ کسی شخص نے اعتراض کیا۔وہ شخص اس وقت یہاں موجود ہے جس کے متعلق اعتراض کیا گیا مگر وہ موجود نہیں جس نے اعتراض کیا۔اعتراض یہ تھا کہ فلاں شخص ورزش کرتا رہتا ہے حالانکہ واقعہ میں اس نے کبھی ورزش نہیں کی۔بہر حال اس پر رویا میں اعتراض کیا گیا۔میں نے جواب دیا یہ تو کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ورزش بعض اوقات دینی حکم ہو جاتی ہے۔پھر میں نے مثال دی کہ ایک شخص جو ورزش نہیں کرتا اور پھر خدمت دین نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ کے حضور وہ ورزش نہ کرنے کی وجہ سے جوابدہ ہو گا۔غرض میں بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ ورزش کی جائے مٹی کہ میرے نزدیک تو آواز کی بھی ورزش ہونی چاہئے۔یہاں ایک پٹھان عبد الغفار خاں صاحب رہتے تھے جو عبد اللہ خاں پٹھان کے باپ تھے اور سید عبد الستار صاحب کہ جنہیں رویا اور کشوف ہوتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں دعا کرنے کے لئے کہا کرتے تھے ، میں نے بھی ان سے کئی بار دعا کرائی ان کے بھائی تھے۔ان کو اذان دینے کا شوق تھا مگر آواز پست تھی۔انہوں نے بلند آواز کے لئے مشق کرنی شروع کی تو اس قدر بلند ہو گئی کہ میل میل تک سنائی دیتی تھی۔تو آواز کی بھی ورزش ہونی چاہئے۔یہ مشق نہ صرف مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام آتی ہے بلکہ صحت کے لئے بھی ضروری ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اس وقت قرآن کریم، نظم اور ایڈریس جنہوں نے پڑھا سوائے تلاوت کرنے والے کے باقیوں کی آواز بہت پست اور گری ہوئی تھی۔اچھی اور عمدہ آواز میں بھی ایک خاص اثر ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسح الاول سناتے تھے