زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 15

زریں ہدایات (برائے طلباء) 15 جلد چهارم تبادلۂ خیالات کریں۔اگر ان کا جواب تسلی بخش نہ ہوا تو پھر میں خود اس بارے میں غور کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے ہمیشہ ورزشی کھیلوں پر زور دیا ہے بشرطیکہ ان کا صحیح استعمال ہو۔اس قسم کی کھیلیں یہ روح پیدا کرتی ہیں کہ باوجود مقابلہ کے آپس میں دوستانہ طور پر رہ سکتے ہیں۔سپورٹس مین سپرٹ یہی ہوتی ہے کہ انسان دوسروں کے اختلاف کو بخوشی برداشت کر سکے۔وہ لوگ جو ذرا ذرا سے اختلاف کی وجہ سے انتہا کو پہنچ جاتے ہیں اس روح کو نہیں سمجھتے جو کھلاڑیوں میں پائی جاتی ہے۔جب کھلاڑی مقابلہ کے کھیل میں کھیلتے ہیں تو دونوں طرف سے اس شدت کا مقابلہ ہوتا ہے کہ گویا اس کھیل کے سوا ان کے مد نظر کوئی اور کام ہی نہیں ہے۔لیکن جب ایک پارٹی جیت جاتی ہے اور کھیل ختم ہو جاتا ہے تو دونوں پارٹیوں کے کھلاڑی ایک دوسرے کی بغلوں میں ہاتھ ڈالے اس طرح چلتے ہیں کہ ان میں کوئی مقابلہ ہوا ہی نہیں۔یہی روح ہے جو دنیا میں امن قائم کر سکتی ہے۔دنیا کی حکومتوں میں ، اقتصادیات میں ، علوم میں، معاشرت میں، اخلاق میں، عادات میں اختلاف ہے۔مگر اسے اسی حد تک محدود رہنا چاہئے جس صیغہ سے تعلق رکھتا ہو۔دوسرے کاموں تک اسے وسیع نہیں کرنا چاہئے۔تمام تفرقے اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں که اختلاف کو وسیع کر کے دوسرے کاموں تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ایک پولیس کا افسر اپنی تحقیقات میں، ایک جج اپنے فیصلہ میں دوسرے اختلافات کے اثرات کو لے جاتا ہے۔اگر اختلاف کو اسی حد تک محدود رکھا جائے جس حد سے اس کا تعلق ہوتا ہے تو کوئی پولیس کا افسر نا انصافی نہ کرے اور کوئی حج بد دیانتی کا مرتکب نہ ہو۔چونکہ اختلاف کو اپنی حد کے اندر محدود رکھنے کی روح کھیلوں سے پیدا ہوتی ہے اس لئے میں انہیں پسند کرتا ہوں اور ان کے مقابلہ میں ڈیبیٹنگ (Debating) کو نا پسند کرتا ہوں۔اس روح کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کوئی دماغ تندرست نہیں رہ سکتا جب تک صحت درست نہ ہو میں ورزشی کھیلوں کو ضروری سمجھتا ہوں۔صحت کی درستی سے میری مراد وہ مخفی طاقت ہے جو انسان کو اس کے متعلقہ کاموں میں سے گزار دیتی ہے اور وہ ان کا موں کو عمدگی سے کر سکتا ہے۔