زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 210

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 210 جلد چهارم ان کی مدد سے مکہ فتح کیا گیا۔لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو میں نے سارا مال غنیمت اپنے رشتہ داروں یعنی کہ مکہ والوں کو دلایا۔اسی طرح تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ سینکڑوں سال کے بعد آخری موعود پیدا ہوا۔وہ موعود مکہ میں پیدا ہوا لیکن مکہ والوں نے اس کی قدر نہ کی۔اس ناقدری کی سزا میں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو مدینہ بھیج دیا اور اس کی وجہ سے مدینہ کی چھوٹی سی بستی کو اتنی برکت دی کہ وہ دوسری بستیوں پر حاکم ہوگئی۔پھر انسانی مدد سے نہیں بلکہ آسمانی تائید سے اس نے طاقت پکڑنی شروع کی اور پھر انسانی طاقت سے نہیں بلکہ الٹھی مدد سے مکہ فتح ہوا۔جب مکہ فتح ہوا تو مکہ والوں نے خیال کیا کہ اب ان کی کھوئی ہوئی عظمت انہیں واپس مل جائے گی اور وہ رسول جس کو انہوں نے اپنی نادانی کی وجہ سے مکہ سے نکال دیا تھا اب ان کو واپس مل جائے گا۔لیکن ان کی امیدیں خام خیالیاں ثابت ہوئیں اور مکہ والے جو خدا تعالیٰ کے رسول کو لینے آئے تھے چند اونٹ اور بکریاں لے کر اپنے گھروں کو چلے گئے لیکن وہ مدینہ جہاں خدا تعالیٰ کا رسول پیدا نہیں ہوا تھا، خدا تعالیٰ کا رسول مکہ میں پیدا ہوا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسے مکہ کے لئے بھیجا تھا اس کے رہنے والے خدا تعالیٰ کے رسول کو ساتھ لے گئے۔فرمایا اے انصار ! تم یہ بھی کہہ سکتے ہو 2 اب تم خود فیصلہ کر لو کہ کیا بکریاں اور اونٹ زیادہ قیمتی ہیں یا محمد رسول اللہ ہی زیادہ قیمتی ہیں۔پس کو مکہ فتح ہوا لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی کسی حکمت کے ماتحت رسول کریم ﷺ اور صحابہ سے یہ قربانی کی کہ مکہ کے فتح ہو جانے کے بعد انہیں وہاں جانے نہ دیا اور یہ بہت بڑی قربانی تھی جو رسول کریم ﷺ اور صحابہ کو کرنی پڑی۔ہم اپنی کمزوری کو دیکھتے ہوئے خواہش رکھتے ہیں کہ قادیان ہمیں واپس بھی مل جائے اور اس قربانی کا بھی ہم سے مطالبہ نہ کیا جائے۔ربوہ کی آبادی کے لئے خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں رغبت پیدا کرے کہ وہ یہاں آکر بسیں اور آباد ہوں۔اس میں سکول بھی ہوں اور اس کی آبادی بھی بڑھتی چلی جائے۔دنیا میں صرف مکہ ہی شہر نہیں ، صرف مدینہ ہی شہر نہیں ، صرف قادیان ہی شہر نہیں ، لاکھوں لاکھ اور شہر بھی ہیں اور کئی شہر مکہ