زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 209

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 209 جلد چهارم ہاں کبھی کبھی مجھے خیال ضرور آتا ہے کہ قادیان واپس ملنے پر ربوہ کی کیا پوزیشن ہوگی ؟ جو حال مہاجروں کا ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے ربوہ کا نشان ایسا عظیم الشان نشان ہے کہ مخالف بھی تسلیم کرتا ہے کہ اس قسم کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔اخبار آفاق کو ہی لے لو اس نے میرے خلاف بھی لکھا لیکن اس نے ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ ربوہ کی آبادی ایسا عظیم الشان کام ہے کہ گورنمنٹ بھی مہاجرین کے لئے نہیں کر سکی۔پس دنیا کی نگاہ میں ہمارا ربوہ آباد کر لینا بہت بڑا نشان ہے۔میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ ربوہ کا اس وقت آباد کر لینا ایک بہت بڑا نشان ہے۔لیکن قادیان واپس ملنے پر اس کی آبادی کی کیا صورت ہوگی ؟ وہ قربانی جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو دینی پڑی اس کا خیال کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر وہ قربانی ہم سے نہ لے۔اور وہ قربانی یہ تھی کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم ﷺ نے ہزاروں ہزار گلے بکریوں اور بھیڑوں اور اونٹوں کے مکہ والوں کو دے دیئے۔محمود کے وزیروں کی طرح کمزور کی نظر مال پر ہوتی ہے اور محبت کی نظر ذات پر ہوتی ہے۔ایک کمزور انصاری نے کہا مکہ ہم نے فتح کیا ہے اور خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن ہزاروں ہزار جانوروں کے گلے رسول کریم ﷺ نے اپنے رشتہ داروں الله یعنی مکہ والوں کو دلائے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا اے انصار! مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔کیا یہ ٹھیک ہے؟ انصار نے اس بات کو سنتے ہی فوراً کہا یا رسول اللہ ! خبر تو ٹھیک ہے لیکن یہ فقرہ بعض نادانوں کے منہ سے نکل گیا ہے ہم اس سے بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا اے انصار ! یہ صرف ایک نقطہ نگاہ ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ میں مکہ میں پیدا ہوا۔میری قوم نے مجھے وہاں سے نکال دیا۔مدینہ سے فوجیں آئیں اور مکہ فتح ہوا۔لیکن مال غنیمت میں سے ہزاروں ہزار گلتے جانوروں کے ان لوگوں کومل گئے جو مکہ کے رہنے والے تھے تمہیں وہ گلے نہ ملے۔(حالانکہ اگر ایسا کہنے والے سوچتے تو یہ گے جانوروں کے کس کے تھے یہ گلے خود مکہ والوں کے ہی تھے اور انہیں واپس مل گئے ) لیکن ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہے۔جس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مدینہ سے فوجیں آئیں اور الله