زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 194

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 194 جلد چهارم غلہ جو اپنے موسم میں بویا جاتا ہے اس کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔اسی طرح شاید ہر غلہ ہر ملک میں بویا جا سکتا ہے لیکن وہ غلہ جو اس ملک میں بویا جاتا ہے جس کی زمین کو اس غلہ سے مناسبت ہے اس کی کیفیت ہی اور ہوتی ہے۔ہر انسان کے لئے ہر علم کا حاصل ہونا اور ہر قسم کا کام کرنا ممکن ہے لیکن ہر فن میں اس کا صاحب کمال ہونا ضروری نہیں۔اس کے دماغ کی مخفی قابلیتوں کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔وہی جانتا ہے کہ مختلف مفید علوم میں سے کون سا علم اور مختلف مفید کاموں میں سے کون سا کام اس کی طاقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس کے زمانہ اور اس کے ملک اور اس کی قوم کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے مناسب ہے۔پس فرمایا کہ خواہ اچھے سے اچھا کام ہو اس کے شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کر لیا کرو۔جس کے الفاظ آپ نے یہ تجویز فرمائے ہیں اللهُمَّ إِنِّي اسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَ اسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَ اسْتَلْكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمُرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاقْدِرُهُ لِى وَيَسِّرُهُ لِى ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيْهِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هذا الأمرَ شَرٌّ لِى فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاصْرِفُهُ عَـ اَصْرِفْنِى عَنْهُ وَ اقْدِرُ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ ارْضِنِی بِهِ۔یعنی اے میرے رب! جو کام میں کرنے لگا ہوں یا جو علم میں حاصل کرنے لگا ہوں یا جو ذمہ واری میں اٹھانے لگا ہوں اس کے بارہ میں تجھ سے جو میری مخفی طاقتوں سے بھی واقف ہے، اپنے زمانہ حال کے متعلق ارادوں سے بھی واقف ہے اور میری ذاتی ، خاندانی ، قومی ملکی اور عالمگیری ضرورتوں اور ذمہ داریوں سے بھی واقف ہے سب سے بہتر فیصلہ طلب کرتا ہوں۔اور پھر تجھ سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس فیصلہ کے مطابق مجھے کام کرنے کی تجھ سے توفیق اور امداد حاصل ہو۔اور تیسری بات تجھ سے یہ طلب کرتا ہوں کہ جو بات میرے لئے مناسب ہو اور جس کی طرف تو میری راہنمائی کرے اور جس کے حاصل