زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 183

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 183 جلد چهارم کا آپ اظہار کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے گواہی دے دی کہ یہ لوگ نیک ہیں تو ان سے بوا سنبھالنے کی کیا ضرورت ہے۔پس وہاں تو ایمان کی یہ علامت ہو گی کہ اپنے بٹوے کی پرواہ نہ کی جائے کیونکہ وہ سب ولی اللہ ہوں گے اور ان کو اَھلُ الْجَنَّةِ کا مقام حاصل ہو چکا ہوگا۔لیکن دنیا میں چونکہ ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں اس لئے مومن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ چوکس اور ہوشیار رہے اور دوسرے لوگوں کی کاروائیوں سے پوری طرح باخبر رہے تا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس اس قسم کی شکایتیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ ہمارے مدرسہ کے بعض بچوں کو ورغلا کر لے جاتے ہیں اور ذمہ دار افسروں کو اس کا علم تک نہیں ہوتا۔یہ ایک ایسی فروگزاشت ہے جو نہایت افسوس ناک ہے۔بچے ہماری جماعت کی ایک قیمتی متاع ہیں۔اگر ہم ان کی نگرانی نہیں کریں گے تو ہم اپنی قوم سے دشمنی کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو بڑا امیر اور لکھ پتی تھا وہ ایک دن مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔اس کو افیون کھانے کی عادت تھی ( اور افیونی عام طور پر افیون کھانے کے بعد کوئی میٹھی چیز منہ میں رکھتے ہیں اور اس کو چوستے رہتے ہیں ) وہ افیونی امیر جب مسجد کے قریب آیا تو باوجودیکہ وہ لکھ پتی تھا زمین پر ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگ گیا۔لوگ اس کو اس طرح زمین پر ہاتھ مارتے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔انہوں نے سمجھا خدا جانے اس کی کیا قیمتی چیز گر گئی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی انگوٹھی یا ہیرا گر گیا ہے؟ اس نے کہا انگوٹھی یا ہیرے کی تو کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے میرے منہ سے ایک ریوڑی گر گئی ہے۔لوگوں نے کہا بھلا آپ جیسے امیر آدمی کے لئے ریوڑی کی کیا بات ہے۔یہ تو بالکل معمولی چیز تھی۔اس نے کہا ہے تو معمولی چیز لیکن اگر کسی غیر افیمی کے ہاتھ آگئی تو وہ کڑک کر کے ایک ہی دفعہ کھا جائے گا اور اصل مقام تو ریوڑی کا یہ ہے کہ آدمی اس کو منہ میں رکھ کر آہستہ آہستہ چوستا رہے اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک اس کے مزے لیتا