زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 163

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 163 جلد چهارم خرچ کا اندازہ ہے۔اور اگر تین گنا کریں تو ایک لاکھ چالیس ہزار خرچ کچھے کا تخمینہ ہے۔اور اگر پکا بنایا جائے تو دو تین لاکھ روپیہ چاہئے۔پھر بی ایس سی کلاس کھولنی ہے۔اس کے لئے سامان اور کمروں کی بھی ضرورت ہے۔ان کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چاہئے۔پھر ایم۔ایس سی کلاس بھی جاری کی جائے تو کل خرچ دس لاکھ کے قریب ہو گا۔لیکن اگر موجودہ طالب علم بھی عزم کر لیں کہ جب چھٹیوں پر جائیں تو اپنے دوستوں سے، رشتہ داروں سے جن کے پاس وہ جائیں چندہ جمع کریں گے تو یقیناً وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔لوگ عموماً طلباء کو خوش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے لیڈر بننے والے ہیں تو دودو تین تین سو روپیہ جمع کر لینا کچھ مشکل نہیں۔علی گڑھ کے طالب علم اسی طرح کافی روپیہ جمع کرتے ہیں۔اگر ہر طالب علم دو تین سو روپیہ جمع کرے اور اوسطاً ایک لاکھ روپیہ سالانہ جمع ہو اور کچھ بوجھ انجمن اٹھائے تو چند سال میں دس لاکھ روپیہ جمع ہونا مشکل نہیں ہے۔اور ہم سب کلاسیں کھول سکتے ہیں۔یہی جذبہ کالج کے پروفیسروں میں ہونا چاہئے۔پس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمارے نوجوان اتنا بوجھ نہ اٹھائیں۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب امریکہ گئے تو وہاں کے متعلق انہوں نے سنایا کہ ایک لڑکا ان کو ایک شہر دکھانے کے لئے ساتھ ہو گیا۔وہ کہیں نو کر تھا اس کا باپ بڑا امیر آدمی تھا چودھری صاحب نے اس سے پوچھا تمہارا باپ اتنا دولت مند ہے تم نوکری کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا میرے باپ کا باپ غریب آدمی تھا۔مگر میرے باپ نے کوشش کی اور وہ امیر بن گیا۔اب میں بھی کوشش کر کے اپنے باپ سے بڑھنا چاہتا ہوں۔پس آپ لوگوں کو جہاں دینی لحاظ سے اپنی اصلاح اور ترقی کی کوشش کرنی چاہئے وہاں کالج کو ترقی دینے اور اس کو مدد دینے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔آپ لوگ جب کالج کی تعلیم سے فارغ ہو جائیں گے تو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن بنالیں گے اور دس سال میں ایک ہزار نوجوان اس کالج سے تعلق رکھنے والے پیدا ہو جائیں گے۔کچھ پڑھنے والے اور کچھ اولڈ بوائز۔اگر ان کی کوششیں اپنے اپنے حلقہ میں جاری رہیں تو دس لاکھ سے بھی زیادہ رقم جمع کر سکتے