زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 162

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 162 جلد چهارم تو اس رنگ میں وہ وقت گزرا۔اور اُن دنوں جو جماعت تھی آج کی جماعت سے اسے کچھ نسبت ہی نہیں۔آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایسے امراء ہیں کہ اُن دنوں جماعت کی جو سالانہ آمدنی تھی اُس قدر آج ایک ایک شخص دے دیتا ہے۔پچھلے ہی دنوں بعض اصحاب نے پچاس ساٹھ ہزار روپیہ چندہ دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اخلاص ہو تو انسان بہت کچھ کام کر سکتا ہے۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں۔دنیا میں بڑے بڑے کالج ہیں مگر ان میں پڑھنے والے لڑکے تفرقہ اور فساد کا موجب بن رہے ہیں۔ہمارا تو کالج ہے دنیا میں یو نیورسٹیاں ہیں جو مذہب کے لئے ذلت کا موجب ہیں۔مگر صحیح طریق پر چلنے والے لڑکے بڑے بڑے کام کر لیتے ہیں خواہ ان کا کالج گارے مٹی کا ہی بنا ہوا ہو اور خواہ وہ درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم پاتے ہوں۔تم لوگ اپنے اندر یہ روح پیدا کرو تا کہ تمہارے وجود مفید ثابت ہوں۔باقی رہی بوجھ اٹھانے کی صورت یہ اس روح کے مطابق نہیں جو ہم میں تھی۔ہم اس عمر میں اس سے بڑے بڑے کاموں کو بھی بہت چھوٹا سمجھتے تھے اور کر گزرتے تھے۔میں نے مدرسہ احمدیہ کی بنیاد اسی رنگ میں رکھی۔اور جب سوال پیدا ہوا کہ عربی بولنے کو رواج دینا چاہئے تو میں نے چندہ کر کے سید ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبد الرحمن مصری کو مصر بھجوایا۔پھر تحریری طور پر تبلیغ کرنے کے لئے تشحید الاذہان رسالہ اسی طرح جاری کیا۔کئی تحریکیں ہوتی تھیں جنہیں ہم چند دوست مل کر جاری کر دیتے تھے اور خدا تعالیٰ ان میں برکت دیتا تھا۔میں سمجھتا ہوں کالج کے طالب علم اگر ہوشیاری علم، تجربہ اور خاندانی رسوخ سے کام لیں تو چھٹیوں میں چار چار پانچ پانچ سو روپیہ چندہ جمع کر لینا ان کے لئے کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ابھی ہم اس ہوٹل کو ڈبل یا تین گنا کرنے کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔اگر اسے ڈیل کر دیں تو اس میں ڈیڑھ سو طالب علموں کے رہنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔اور اگر تین ہوسٹل بنا دیے جائیں تو تین چار سو طالب علم رہ سکتے ہیں۔اگر ہم کچا ہوٹل بھی بنائیں اور موجودہ ہوٹل کو ڈبل بنا کر آگے برآمدے بنائے جائیں تو پینتالیس ہزار روپیہ