زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 127
زریں ہدایات (برائے طلباء) 127 جلد چهارم والوں کو پانچ پانچ سات سات ہزار روپیہ تنخواہ ملتی ہے۔ان کا عام طور پر شراب اور چائے کے چکھنے کا کام ہوتا ہے۔وہ چکھ کر بتاتے جاتے ہیں کہ فلاں شراب فلاں خانہ میں رکھو۔پھر اس کے مطابق اس کی قیمت پڑتی ہے۔ان سے کم تنخواہ چائے لکھنے والے پانے کے ہیں جو بتاتے ہیں کہ فلاں پتی میں یہ خاصیت ہے۔اس طرح وہ اعلیٰ اور ادنی پتی کی تقسیم کرتے ہیں۔مگر ہمارے ہاں تو چائے کا نام رکھ کر اگر بنفشہ پلا دیا جائے تو بھی بہت لوگ ایسے ہوں گے جنہیں کوئی پتہ نہ لگے گا کیونکہ وہ دراصل چائے نہیں پیتے بلکہ چائے کا نام پیتے ہیں۔اسی طرح آنکھوں کا امتحان ہے۔مختلف رنگوں کے چارٹ موجود ہوں۔جو لڑکا سکول میں داخل ہو اس کا امتحان لے لیا جائے کہ اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں ہے۔اور اگر کوئی نقص ہو تو اس کا علاج کرایا جائے۔مگر ہمارے ہاں تو بعض لوگ کئی رنگوں کے نام بھی نہیں جانتے۔غرض رنگوں کے متعلق آنکھوں کے تجربے کئے جائیں اور جس کی آنکھ میں کوئی نقص ہوا سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح حلق ہے۔آواز کا عمدہ اور بلند ہونا نہایت ضروری چیز ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہیں جو حاصل کئے جا سکتے ہیں۔کانوں کا بہت بڑا تعلق آواز سے ہے اور کانوں کی یہ جس اس قدر ترقی کر سکتی ہے کہ امریکہ کے ریڈ انڈین زمین پر کان رکھ کر بتا سکتے ہیں کہ فلاں طرف سے دو یا تین یا چار سوار آ رہے ہیں۔پہلے یورپین لوگ ان کی اس قسم کی باتوں کو جادو سمجھتے تھے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کان کی جس کی تیزی کا نتیجہ ہے۔غرض حواس خمسہ کی ترقی انسانی ترقی سے بہت بڑا تعلق رکھتی ہے اور اس کا روحانیت سے بھی بہت گہرا تعلق ہے۔جب بچپن سے یہ بات لڑکوں کے ذہن نشین کی جائے گی کہ حواس خمسہ مرکب ہیں اور ان کے باریک فرقوں سے کچھ کا کچھ بن جاتا ہے اسی طرح روحانی حواس بھی مرکب ہیں اور ان کے ذرا سے فرق سے بھی بہت بڑا فرق پڑ جاتا ہے تو ہر موقع پر وہ اس بات کو یاد رکھیں گے اور انشاء اللہ بہت فائدہ اٹھائیں گے۔