زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 111
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 111 جلد چهارم مذہب کی عزت برباد ہوتی ہے۔لوگ اسے بھول جاتے ہیں لیکن عرصہ دراز تک وہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ ہم نے ہندوستانی دیکھے ہوئے ہیں۔وہ ایسے خراب ہوتے ہیں۔ہم نے احمدی دیکھے ہوئے ہیں وہ ایسے خراب ہوتے ہیں۔(9) مسافر کو جھگڑے سے بہت بچنا چاہئے اس سے زیادہ حماقت کیا ہوگی کہ دوسرا شخص تو جھگڑا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہے اور یہ ہوٹلوں میں جھگڑے کے تصفیہ کا انتظار کرتا ہے۔مسافر تو اگر جیتا تب بھی ہارا اور اگر ہارا تب بھی ہارا۔(10) غیر ملکوں کے احمدی ہزاروں بار دل میں خواہش کرتے ہیں کہ کاش! ہمیں بھی قادیان جانے کی توفیق ملے کہ وہاں کے بزرگوں کے تقویٰ اور اچھے نمونہ سے فائدہ اٹھائیں اور خصوصا اہل بیت کے ساتھ ان کی بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔وہ اپنے گھروں کو ایمان کے حصول کے لئے چھوڑ نا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں۔سخت ظلم ہوگا اگر ہم ان کے پاس جاکر ان کے ایمانوں کو ضائع کریں اور ان کی امیدوں کو سراب ثابت کریں۔ہمارا عمل ایسا ہونا چاہئے کہ وہ سمجھیں کہ ہماری امید سے بڑھ کر ہمیں ملا نہ یہ کہ ہماری امید ضائع ہوگئی۔(11) ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کی چغلیاں کرتے ہیں۔مومن کو چغلی سننے سے پر ہیز چاہئے اور سن کر یقین کرنے سے تو کلی اجتناب واجب ہے۔جو دوسرے کی نسبت عیب بغیر ثبوت کے تسلیم کر لیتا ہے خدا تعالیٰ اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہے جو اس کی خوبیوں کو بھی عیب بتاتے ہیں۔مگر چاہئے کہ چغلی کرنے والے کو بھی ڈانٹے نہیں بلکہ محبت سے نصیحت کرے کہ اگر آپ کا خیال غلط ہے تو بدظنی کے گناہ سے آپ کو بچنا چاہئے اور اگر درست ہے تو اپنے دوست کے لئے دعا کریں تا اسے بھی فائدہ ہو اور آپ کو بھی ، اور عفو سے کام لو کہ خدا تمہارے گناہ بھی معاف کرے۔(12) تم کو مصر، فلسطین اور شام کے احمدیوں سے ملنا ہوگا۔ان علاقوں میں احمدیت ابھی کمزور ہے۔کوشش کرو کہ جب تم لوگ ان ممالک کو چھوڑ و تو احمدی بلحاظ تعداد کے زیادہ اور بلحاظ نظام کے پہلے سے بہتر ہوں۔اور تم لوگوں کا نام ہمیشہ دعا کے ساتھ لیں اور کہیں کہ ہم کمزور