زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 110

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 110 جلد چهارم مانتے ہیں اور اس کے دشمن خواہ منہ سے تکذیب کریں لیکن ان کے دل تصدیق کر رہے ہوتے ہیں۔(6) انسانی شرافت کا معیار اس کے استغناء کا معیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَعْنَابِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ 6 کبھی دوسرے کی دولت پر نگاہ نہ رکھے اور کبھی کسی کا حسد نہ کرے۔جو ایک دفعہ اپنے درجہ سے او پر نگاہ اٹھاتا ہے اس کا قدم کہیں نہیں نکلتا۔اگلے جہان میں تو اسے جہنم ملے گی ہی وہ اس جہان میں بھی جہنم میں رہتا ہے۔یعنی حسد کی آگ میں جلتا ہے یا سوال کی غلاظت میں لوٹتا ہے۔کیسا ذلیل وجود ہے وہ کہ اکیلا ہوتا ہے تو حسد اس کے دل کو جلاتا ہے اور لوگوں میں جاتا ہے تو سوال اس کا منہ کالا کرتا ہے۔انسان اپنے نچلوں کو دیکھے کہ وہ کس طرح اس سے تھوڑا رکھ کر قناعت سے گزارہ کر رہے ہیں اور اس پر شکر کرے جو خدا تعالیٰ نے اسے دیا ہے اور اس کی خواہش نہ کرے جو اسے نہیں ملا۔اس کے شکر کرنے سے اس کا مال ضائع تو نہیں ہوتا ہاں اسے دل کا سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔اور طمع کرنے سے دوسرے کا مال اسے نہیں مل جاتا صرف اس کا دل جلتا اور عذاب پاتا ہے۔جس طرح بچہ بڑوں کی طرح چلے تو گرتا اور زخمی ہوتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے سے زیادہ سامان رکھنے والوں کی نقل کرتا اور گرتا اور زخمی ہوتا ہے اور چند دن کے جھوٹے دوستوں کی واہ واہ کے بعد ساری عمر کی ملامت اس کے حصہ میں آتی ہے۔اور انسان کو ہمیشہ اپنے ذرائع سے کم خرچ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ اس کے ذمہ دوسرے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور امداد بھی ہے۔ان کا حصہ خرچ کرنے کا اسے کوئی اختیار نہیں اور پھر کون کہہ سکتا ہے کہ کل کو اس کا حال کیا ہوگا۔(7) جفاکشی اور محنت ایسے جو ہر ہیں کہ ان کے بغیر انسان کی اندرونی خوبیاں ظاہر نہیں ہوتیں اور جو شخص اس دنیا میں آئے اور اپنا خزانہ مدفون کا مدفون چھوڑ کر چلا جائے اس سے زیادہ بدقسمت کون ہوگا۔(8) ہر شخص جو باہر جاتا ہے اس کے ملک اور اس کے مذہب کی عزت اس کے پاس امانت ہوتی ہے۔اگر وہ اچھی طرح معاملہ نہ کرے تو اس کی عزت نہیں بلکہ اس کے ملک اور