زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 107

زریں ہدایات (برائے طلباء) 107 جلد چهارم حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کیلئے زریں ہدایات 29 جون 1938 ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب عربی تعلیم کے حصول کیلئے مصر روانہ ہوئے۔اس موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے صاحبزادہ صاحب کو جو تحریری ہدایات دیں وہ درج ذیل ہیں:۔عزیزم مبارک احمد سَلَّمَكَ اللهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ خیریت سے لے جائے اور خیریت سے لائے اور اپنی رضامندی کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔تمہارا سفر تو عربی اور زراعت کی تعلیم اور ترقی کے لئے ہے لیکن چھوٹے سفر میں اس بڑے سفر کو نہیں بھولنا چاہئے جو ہر انسان کو در پیش ہو۔جرنیل جرنیلوں کے، مد بر مد بروں کے، بادشاہ بادشاہوں کے حالات پڑھتے رہتے ہیں تا کہ اپنے پیشروؤں کے حالات سے فائدہ اٹھا ئیں۔اگر تم لوگ اہل بیت نبوی کے حالات کا مطالعہ رکھو تو بہت سی ٹھوکروں سے محفوظ ہو جاؤ۔انسان کا بدلہ اس کی قربانیوں کے مطابق ہوتا ہے۔رسول کریم اللہ فرماتے ہیں یہ نہ ہوگا کہ لوگ تو قیامت کے دن اپنے اعمال لے کر آئیں اور تم وہ غنیمت کا مال جو تم نے دنیا کا حاصل کیا ہے۔اے میرے صحابہ! تم کو بھی اپنے اعمال ہی لا کر خدا کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔اہل بیت نبوی کو جو عزت آج حاصل ہے وہ رسول کریم نہ کی اولاد ہونے کے سبب سے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر جو قربانیاں کی ہیں ان کی وجہ سے ہے۔