زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 95
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 95 جلد چهارم اُس وقت ابوجہل کا نام ابوالحکم تھا۔لوگوں نے کہا ابوالحکم! دیکھو! وہ حمزہ چلا آ رہا ہے۔اس کی شکل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غصہ سے بھرا ہوا ہے۔حضرت حمزہ کے ہاتھ میں کمان تھی کیونکہ اُس زمانے میں بندوقیں تو تھی نہیں تیر کمان سے ہی لوگ شکار کھیلا کرتے تھے۔انہوں نے آتے ہی کمان ابو جہل کے منہ پر ماری اور کہا تجھے اس شخص پر ہاتھ اٹھانا آتا ہے جو آگے سے جواب نہیں دیتا۔اگر ہمت ہے تو آ اور میرے مقابل پر کھڑا ہو جا۔چونکہ یہ دونوں رئیس تھے اس لئے لوگوں نے درمیان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کر دیا۔اس کے بعد وہ سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس گئے اور کہا کہ مجھ پر اسلام کی کیفیت کھل گئی ہے اور میں مسلمان ہوتا ہوں 7 غرض اخلاق کے اعلیٰ نمونے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔پس نمونہ اصل چیز ہے۔تم خواہ کتنا وعظ کرو اگر تم چور ہو، بدیانت ہو، غیبت کرنے والی ہو، دوسروں پر تہمتیں لگانے والی ہو ، نماز کی پابند نہیں ہو تو تمہاری باتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔جس وقت تم یہ کہہ رہی ہوگی کہ اسلام سچا ہے، اس میں فلاں خوبیاں ہیں تو تمہارے پاس کی لڑکی جس کو تم نے جھوٹ بولنا سکھایا ہوگا تمہاری باتوں پر ہنس رہی ہوگی۔اصولی اخلاق بہت بڑا اثر ڈالتے ہیں۔مثلاً دیانت ہے، سچائی ہے، محنت ہے ، رحم ہے یہ اصولی اخلاق بھی پانچ ارکانِ اسلام کی طرح پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں۔سچائی ، رحم ، دیانت، وفاداری اور محنت و با قاعدگی کار۔یہ پانچ ارکان ایسے ہیں جن کی پابندی سے انسان ہر جگہ نیک نمونہ پیش کرتا ہے۔مثلاً محنت اور باقاعدگی کے نیچے نمازیں بھی آجاتی ہیں۔اگر با قاعدہ کام کرنے کی عادت نہ ہوگی تو نماز کے چھوٹنے کا بھی احتمال ہو سکتا ہے حالانکہ نماز کا چھوڑ نا ایسا ہی ہے جیسے کسی نے زہر کھا لیا۔مگر تم اپنے نفسوں کو ٹول کر دیکھو۔تم میں سے کتنی ہیں جنہوں نے نماز میں کبھی ناغہ نہیں کیا اور کبھی ایک نماز بھی نہیں چھوڑی۔تم کہو گی کہ ایک نماز اگر چھوٹ گئی تو کیا ہوا۔لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں سے کوئی زہر کی ایک پڑیا کھانے کے لئے تیار ہوگی؟ مردوں میں بھی نمازوں کے متعلق ستی پائی جاتی ہے۔یہاں جب کبھی کوئی جلوس وغیرہ