زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 94
زریں ہدایات (برائے طلباء) 94 جلد چهارم صلى الله الله صلى الله عیسائی نہیں بنا تھا لیکن نمونہ سے تیسرے دن ایک صاحب حیثیت آدمی عیسائی بن گیا۔پس اخلاق فاضلہ کا اثر نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔اسلام کی ابتدائی تاریخ سے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح نمونوں نے لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچا۔ابتدا میں رسول کریم ے کے اپنے رشتہ دار بھی اسلام میں داخل نہیں تھے۔آپ کے چا حضرت حمزہ نے بھی ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ان کے اسلام میں داخل ہونے کی وجہ بھی یہی تھی کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو دیکھا۔چنانچہ حضرت حمزہ کے اسلام لانے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ایک چٹان پر بیٹھے کچھ سوچ رہے تھے کہ ابو جہل نے آپ کو آ کر گالیاں دیں اور پھر اس خبیث نے آپ کو تھپڑ مار دیا۔رسول کریم می خاموش رہے اور اسے کچھ نہ کہا۔حضرت حمزہ کو شکار کا بڑا شوق تھا وہ صبح سویرے شکار کھیلنے باہر چلے جاتے اور شام کو گھر واپس آتے۔اُس دن جب وہ شام کو شکار سے واپس آئے تو ان کے گھر کی ایک لونڈی نے جس نے یہ واقعہ دیکھا تھا اور جو اس وجہ سے بھری بیٹھی تھی اس نے ان سے کہا کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم بہادر بنے پھرتے ہو لیکن دشمن تمہارے بھتیجے کو گالیاں دیتے اور مارتے پیٹتے ہیں۔حضرت حمزہ نے کہا کیا بات ہے؟ لونڈی نے جواب دیا تمہارا بھتیجا صبح چٹان پر بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا کہ ابو جہل آیا اور اس نے اسے گالیاں دیں اور پھر مارنا شروع کر دیا۔مگر آگے سے اس نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔کیا تم کو غیرت نہیں آتی کہ تم اپنے آپ کو بہادر سمجھتے ہو مگر تمہارے بھتیجے کو دشمن پیٹتے ہیں۔باوجود اس کے کہ حضرت حمزہ میں ایمان نہیں تھا لیکن یکدم ان کے دل کی کھڑکیاں کھل گئیں اور ان کی چشم بصیرت نے دیکھ لیا کہ اتنا بڑا اعلیٰ نمونہ بغیر سچائی کے ظہور میں نہیں آسکتا۔ضرور ہے کہ رسول کریم ﷺ بچے ہیں اور انہیں ایک نور ملا ہے کیونکہ اس قدر اعلیٰ اخلاق کوئی معمولی چیز نہیں۔حضرت حمزہ شکاری لباس پہنے ہوئے تھے انہوں نے وہ کپڑے بھی نہیں اتارے بلکہ سید ھے کعبہ میں گئے اُس وقت ابو جہل دوسرے رؤسا کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔لوگوں نے جس وقت ان کی شکل دیکھی تو کہا کہ آج خیر نہیں۔