زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 92
زریں ہدایات (برائے طلباء) 92 جلد سوم وہ اسی طرح علوم کے مالک ہوئے ہیں کہ چاہے چھوٹی سے چھوٹی چیز سے ہی علم اور سبق حاصل کرنا پڑے تب بھی وہ علم سیکھتے تھے اور سبق حاصل کرتے تھے اور ادنی ادنی حیوانات سے بھی وہ علم سیکھتے ہیں۔چنانچہ آجکل وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں چیونٹیوں سے تمدن اور سوشلزم (Socialism) کے اصول سیکھنے چاہئیں۔نئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چیونٹیوں میں تمدن کے بڑے پختہ اصول پائے جاتے ہیں۔چیونٹیوں میں ہر کام ایک انتظام کے ماتحت ہوتا ہے۔ان میں سے بعض اس کام کے لئے مقرر ہوتی ہیں کہ غلہ جمع کریں۔بعض غلہ کے سکھانے کا کام کرتے ہیں۔بعض ان میں سے ڈاکٹروں کے فرائض بجالاتی۔ان کے باقاعدہ ہسپتال ہوتے ہیں اور اگر کام کرتے وقت کسی چیونٹی کا بازو یا ٹانگ ٹوٹ جائے تو بعض اور چیونٹیاں اس کام کے لئے مقرر ہوتی ہیں کہ ان کو اٹھا کر آرام گاہ پر لے جائیں۔غرضیکہ ان میں تمدن کے بہت اچھے اصول پائے جاتے ہیں اور یورپ کے لوگ اب کہتے ہیں کہ ان سے تمدن کے اصول سیکھنے چاہئیں۔ایسا ہی بعض دوسرے کیڑوں کے متعلق بھی تحقیقات ہو رہی ہے کہ اگر ان سے بھی علم سیکھا جا سکتا ہے تو سیکھا جائے۔تو جوان علوم کے ماہر ہیں وہ ادنی انسان چھوڑ ادنیٰ سے ادنی حیوان سے بھی علم کے سیکھنے میں عار نہیں سمجھتے اور علم سیکھنے میں لگے ہی رہتے ہیں اور اسی طریق سے انسان علم میں ترقی کرتا ہے اور اسی طریق سے علوم موجودہ وسعت تک پہنچے ہیں۔دیکھوسن کو نا (CINCHONA) کا درخت جس ملک میں پایا جاتا ہے وہاں جنگلی لوگ آباد تھے۔وہ لوگ موسمی بخار میں اس درخت کا چھلکا استعمال کرتے تھے۔یورپ کے ڈاکٹروں نے ان جنگلیوں سے بھی علم سیکھنے میں عار نہ کی اور ان کے چھلکا استعمال کرنے کو تمسخر میں نہ اڑایا بلکہ تجربے کیسے اور معلوم ہوا کہ واقعی اس سے فائدہ ہوتا ہے اور اس چھلکے سے انہوں نے کونین نکالی جو اتنی مفید چیز ہے کہ اب بچہ بچہ اس کے فوائد سے واقف ہے۔اگر یہ لوگ خیال کر لیتے کہ ہم تو علم پڑھے ہوئے ہیں ہم کو بھلا جنگلی لوگ کیا سیکھا سکتے ہیں تو کونین جیسی مفید چیز کا علم دنیا میں نہ پھیلتا۔اسی طرح ایک بادشاہ کا ذکر ہے کہ اس کو کوئی بیماری