زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 82

زریں ہدایات (برائے طلباء) 82 889 جلد سوم موجودہ زمانہ کے زہریلے اثرات سے بچاؤ کے لیے تین ضروری باتیں ذیل میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ان کلمات طیبات کا مفہوم اپنے الفاظ میں دیا جاتا ہے جو حضور نے مورخہ 28 ستمبر 1921ء کو بمقام لاہور احمدی طلباء سے خطاب فرمایا۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔” ہمارے طلباء کو تین باتیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں وہ باتیں اگر ان میں پیدا ہو جائیں تو موجودہ زمانہ کے زہریلے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔مگر ساتھ ہی اس بات کا بھی نہایت احتیاط سے خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان تینوں باتوں کو عمل میں لاتے وقت اگر صحیح ضرورت اور موقع ومحل کا لحاظ نہ رکھا جائے یا ان باتوں کو غلط طریق سے عمل میں لایا جائے تو تین صفات کے مقابلہ پر تین عیوب کے پیدا ہو جانے کا احتمال ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے۔فرمایا اس زمانے میں سچ بولنے کی عادت بہت کم ہوگئی ہے اور جھوٹ کا رواج بہت عام ہو گیا ہے۔غیر تعلیم یافتہ لوگ بھی جھوٹ بول لیتے ہیں اور تعلیم یافتہ لوگ بھی جھوٹ بولنے میں ان سے پیچھے نہیں ہیں۔بلکہ مؤخر الذکر گروہ کے جھوٹ بولنے کا طریق مقدم الذکر سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ ایسے رنگ میں جھوٹ بولتے ہیں کہ سرسری نگاہ سے معلوم بھی نہیں کر سکتے کہ یہ جھوٹ ہے۔ہمارے طلباء کو چاہئے کہ اس بارے میں بہت احتیاط سے کام لیں اور جہاں کہیں بات کرنے کی ضرورت ہو تو خیال رکھیں کہ ہما را بیان کلی طور پر سچا ہو اور جھوٹ کا