زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 80
زریں ہدایات (برائے طلباء) 80 60 جلد سوم جانتے ہیں۔مگر چونکہ ان سے بڑا کام ہمیں درپیش ہے اس لئے ان میں دخل نہیں یتے۔ہم ان لوگوں سے زیادہ گورنمنٹ کے عیبوں سے واقف ہیں جو شور مچارہے ہیں مگر ہمیں چونکہ فرصت نہیں اس لئے ادھر توجہ نہیں کر سکتے۔دیکھو اگر کسی کا بیٹا مر رہا ہو تو کیا اسے یہ فکر ہو سکتا ہے کہ گھر کا پلستر اکھڑ گیا ہے اسے درست کراؤں؟ اسے تو بیٹے کی بیماری | اور علاج کا ہی فکر ہو گا۔اس وقت اسلام کے خلاف یورش ہورہی ہے،اسلام کو برے سے برے رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، اسلام سے لوگوں کو متنفر کیا جا رہا ہے اور اسلام کے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس وقت ہمیں اگر کوئی فکر ہے تو یہی کہ اسلام کی صداقت دنیا پر ثابت کریں۔اسلام کی عزت اور وقعت لوگوں کے دلوں میں قائم کریں۔اسلام کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کریں اور اسلام کو دنیا میں پھیلا دیں۔پس ہم اس کام کو چھوڑ کر اور کسی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔تمہارے سامنے گورنمنٹ کے نقص پیش ہوں گے اگر تمہارا یہ خیال ہوگا کہ اس میں کوئی نقص نہیں تو جب تم کو لوگ نقائص سنائیں گے تم حیران رہ جاؤ گے۔لیکن اگر تمہارا یہ خیال ہوگا کہ ہم گورنمنٹ کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں مگر چونکہ فرصت نہیں اس لئے ان باتوں میں نہیں پڑتے تو تم پر کسی بات کا اثر نہیں ہوگا۔تمہیں دین کی خدمت اور اشاعت کرنی ہے تم اگر سیاست میں پڑ جاؤ گے تو ادھر سے بالکل رک جاؤ گے۔آخر میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ساری دنیا میں کام آنے والی چیز اخلاق ہے۔اچھے عادات اور اخلاق کا انسان ہر جگہ عزت اور فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ہندو دکانداروں کو دیکھا گیا ہے گاہک کو دور سے ہی آنا دیکھ کر کہنے لگ جاتے ہیں آیئے جی آئی جی مگر مسلمان دکاندار گاہک کے ساتھ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سے تجارت نکل کر دن بدن ہندوؤں میں جا رہی ہے کیونکہ گاہک انہی دکانداروں کے پاس جاتے ہیں جو اخلاق سے پیش آتے ہیں۔اسی طرح وکیلوں اور دیگر