زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 77
زریں ہدایات (برائے طلباء) 77 جلد سوم تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں، فائدے اور آرام بھی پہنچتے ہیں لیکن لوگوں کا قاعدہ ہے کہ آرام کو بھول جاتے ہیں اور تکالیف کو تازہ رکھتے ہیں۔یہاں جو تم دو تین چار یا سات آٹھ سال رہے ہو ان میں جن لوگوں کے ساتھ تمہارا تعلق رہا ہے ان کی نسبت ممکن ہے تمہارا یہ خیال ہو کہ فلاں وقت یہ تکلیف پہنچی تھی اور فلاں وقت یہ۔اور اس قسم کی باتیں تمہیں یاد ہوں مگر یاد رکھو جہاں کے متعلق ایسی باتیں جو لوگ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں وہاں سے ان کا تعلق قطع ہو جاتا ہے اور وہ بالکل علیحدہ ہو جاتے ہیں۔شریف انسانوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اچھی باتوں کو یاد رکھتے اور تکلیف دہ باتوں کو بھول جاتے ہیں۔تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔اصل بات تو یہ ہے کہ لوگ اچھے سلوک زیادہ کرتے ہیں اور تکالیف کم لوگوں کی طرف سے پہنچتی ہیں مگر لوگ چونکہ تکالیف کو زیادہ یا در رکھتے ہیں اور اچھے سلوک کو جلدی بھول جاتے ہیں اس لئے تکالیف زیادہ معلوم ہوتی ہیں۔ایک شخص کسی جگہ رہتا ہے اور روزانہ پیٹ بھر کر کھاتا ہے۔وہ اگر ایک دن بھوکا رہے تو اسے یہ بات یادر ہے گی اور ہر روز کا کھانا بھول جائے گا۔تو تکالیف کو یاد رکھا جاتا ہے اور یہ یاد رکھنا طبیعت کی کمزوری ہے نہ کہ اس تکلیف دینے والی بات میں یہ اثر ہوتا ہے کہ زیادہ یاد رہتی ہے۔اگر انسان اس کے خلاف طبیعت بنالے یعنی نیک سلوک کو یا در کھے اور تکلیف کو بھلا دے تو اسے اچھی باتیں ہی یا در ہیں گی اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں اچھی باتیں ہی یا د رہتی ہیں اور ایسی باتیں جن سے انہیں تکلیف پہنچی ہو بھول جاتی ہیں۔تو تکلیف دہ باتوں کو یاد رکھنے سے قلب اور دماغ پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت خراب نکلتا ہے۔علاوہ ازیں یہ سخت ناشکری کی بات ہے کہ تکلیفوں کو جو کم ہوتی ہیں یا درکھا جائے اور آراموں کو جو زیادہ ہوتے ہیں بھلا دیا جائے۔کئی لوگ معمولی معمولی باتوں سے ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ تکلیف کو یا در رکھتے ہیں اور آرام کو بھول جاتے ہیں۔اور کسی سے ناچاقی کی وجہ سے مرکز سے قطع تعلق کر لیتے ہیں حالانکہ اگر کسی آدمی سے ان کی لڑائی ہو تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جس سے اس کا تعلق تھا وہ بھی برا ہے مگر لوگ ایسا کرتے