زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 54
زریں ہدایات (برائے طلباء) 54 جلد سوم دسترس ہو سکے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ رکھی جائے جب اس طرح کیا جائے گا تو ان میں چوری | کی عادت نہیں پڑے گی۔کم ہمتی اور مایوسی کی عادت بھی اسی عمر میں پڑتی ہے۔بعض ماں باپ جو اپنے بچوں کی ہر ایک بات مانتے ہیں اور اگر نہ مانیں تو بچے فورا رو پڑتے ہیں اور ماں باپ ان کو چپ کرانے کے لئے اُن کے سب مطالبات پورے کر دیتے ہیں ایسے بچے آئندہ زندگی میں مشکلات کا مقابلہ کر سکنے کے اہل نہیں رہتے۔جو جرنیل میدان سے بھاگتا ہے تو تم سمجھ لو کہ بچپن میں وہ بسکٹ یا کوئی اور چیز مانگتا تھا جو اسے فوراً دے دی جاتی تھی۔اب جب دشمن کے مقابلہ میں فتح حاصل کرنے کے لئے آیا جو کہ مشکل سے حاصل ہوتی ہے تو چونکہ یہ مشکل پسند نہ تھا اس لئے اس بچپن کی عادت کے باعث میدان سے بھاگ گیا۔غرض جتنی اچھی یا بری عادات ہیں وہ سب اس عمر میں پڑتی ہیں۔ان کے لئے علیحدہ سہ نہیں ہوتے نہ یہ بڑی عمر میں آتی ہیں بلکہ انہی مدرسوں اور اسی عمر میں آتی ہیں اور یہ باتیں کھیلنے کودنے میں سیکھی جاتی ہیں۔اس عمر میں عادات سیکھنے کے لئے مصلے بچھا کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کھیلنے کودنے کے میدانوں میں سیکھی جاتی ہیں۔تم دیکھو کہ جو بچہ دوسرے کو شولڈر مارتا ہے وہ بڑی عمر میں سخت مزاج نکلے گا۔لیکن جو کھیلنے میں قواعد کی پابندی کرتا اور نا جائز طور پر فتح نہیں کرنا چاہتا وہ فرض شناس ہوگا اسی طرح جو سٹک (Stick) دوسرے کو یونہی مارتا ہے اس کے متعلق سمجھو کہ ظالم ہوگا۔اور جو برداشت کرتا ہے اور موقع دیکھ کر جدھر بال پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے ادھر پہنچاتا ہے وہ بڑا ہو کر لیڈر بنے گا اور مشکلات میں قوم کا ساتھ دے گا۔غرض ان کھیلوں میں ہی اخلاق کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور اسی عمر میں بچے دوزخ کے لئے تیار ہوتے ہیں یا بہشت کے لئے۔پس اس عمر میں سوائے فرائض کے تمہارے لئے زیادہ نمازیں پڑھنا ضروری نہیں۔بلکہ جو اس عمر میں کھیلتا نہیں اور زیادہ نمازیں پڑھتا ہے ڈر ہے کہ بڑا ہو کر نمازوں کو ترک ہی نہ کر دے۔کیونکہ عام طور پر ایسا ہی دیکھا گیا ہے۔جو بچے اس وقت کھیلوں سے بچتے ہیں وہ اپنے اندر غفلت اور سستی کا بیج بوتے ہیں۔تم کو چاہئے کہ اس عمر میں نمازیں جو