زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 53
زریں ہدایات (برائے طلباء) 53 جلد سوم کو قبض ہو گئی۔علاج کیا گیا مگر فائدہ نہ ہوا۔چونکہ وہ طبیب مزاج شناس تھا اس لئے اس کو بلوایا گیا۔اس نے دوادی تو قبض دور ہوگئی۔بادشاہ نے کہا کیسا آرام آگیا ہے۔طبیب نے کہا کہ بادشاہ سلامت! یہی تو میں نے کہا تھا۔تو وہ چھوٹے بچے جن کو پاخانہ روکنے کی عادت ہوتی ہے ان کو یہ عادت اسی طرح پڑتی ہے کہ جب ان کو آرام معلوم ہوتا ہے تو وہ پھر اس آرام کو حاصل کرنے کے لئے پاخانہ کو ہمیشہ روکتے ہیں۔مگر جب بڑے ہو جاتے ہیں تو اس عادت کو لغو سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔مگر اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پاخانہ روکنے کی عادت بڑی عمر میں مال روکنے کا عادی بنا دیتی ہے اور وہ بخیل ہو جاتے ہیں اور اس بری عادت کے باعث ان کو ہمیشہ ذلیل ہونا پڑتا ہے۔دیکھو یہ کتنی چھوٹی بات ہے مگر اس کا کتنا بڑا نتیجہ کھاتا ہے۔یہ بات میں نے تم کو اس لئے سنا دی ہے کہ تم کبھی اس کے روکنے کی کوشش نہ کرو۔کیونکہ اس کا اثر علاوہ دیگر خرابیوں کے تمہارے اخلاق پر بہت برا پڑے گا۔اب میں تم کو بتا تا ہوں کہ چوری کی عادت کس طرح پڑتی ہے۔وہ بھی اسی عمر میں پڑتی ہے۔اور اس طرح پڑتی ہے کہ مثلاً آموں کا موسم ہے بچہ بیمار ہے آم سامنے ہیں وہ بار بار ماں سے کہتا ہے کہ آم دو مگر وہ کہتی ہے آم تیرے لیے اچھے نہیں۔لیکن جب ماں پرے ہوتی ہے تو بچہ اٹھ کر آم کھا لیتا ہے۔اگر چہ یہ آم کسی غیر کے نہ تھے مگر چونکہ ماں کی غیر موجودگی میں خفیہ طور پر اس نے کھائے اس لئے اس کے دل میں یہ بات پیدا ہوگئی کہ جب ضرورت پڑے تو وہ کسی کی چیز کو اس کی عدم موجودگی میں استعمال کر سکتا ہے۔اب آہستہ آہستہ اس کے دل میں پوشیدہ طور پر چیزیں استعمال کرنے کی عادت پڑنی شروع ہو جاتی ہے اور ہوتے ہوتے یہ حالت ہو جاتی ہے کہ جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو بجائے محنت کر کے جائز طور پر حاصل کرنے کے کسی کی چیز خفیہ طور پر حاصل کر کے استعمال کرنے کے لئے چوری کرتا ہے اور اس سے بڑھتے بڑھتے بڑا چور ہوتا ہے۔دیکھو کتنی چھوٹی سی بات کا کتنا بڑا اثر پڑا۔پس بچوں کو چوری کی بری عادت سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کبھی ان کی آنکھوں کے آگے اور ایسی جگہ جہاں تک بچوں کی