زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 50
زریں ہدایات (برائے طلباء) 50 جلد سوم تم خوش رہو۔دنیا میں کتنے ہی مصائب اور آفات آئیں تمہیں ان کی کچھ پر واہ نہیں۔ہاں اگر تمہاری خوشی منغض 1 ہو گی تو تمہارے لئے رینج کی بات ہوگی۔لوگ اگر قطوں سے مرر ہے ہوں ، بیماریوں سے ہلاک ہو رہے ہوں تو تمہارے لئے کچھ فکر نہیں۔جرمنی مٹتا ہے تو مٹ | جائے۔قیصر معزول ہوتا ہے تو ہو جائے۔روس کی حکومت زیروز بر ہوتی ہے تو ہو۔زار روس ہلاک ہوتا ہے تو ہو جائے۔انگلستان فتح پاتا ہے تو پا جائے۔تمہیں رنج یا خوش کرنے والی صرف ایک ہی چیز ہے اور وہ تمہاری کھیل ، کھانے اور پہنے کی چیزیں یا دوستوں سے باتیں کرنا ہے۔مگر جوں جوں تم بڑی عمر کے ہوتے جاتے ہو تمہاری خوشیاں کم اور افکار بڑھتے جاتے ہیں۔بچوں کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ مثلاً ایک گھر میں ایک ہی کمانے والا ہے اور دس کھانے والے۔اگر وہ شخص جو کماتا ہے بیمار ہو جائے اور اس کی ایسی حالت ہو کہ اس کے مرنے سے بچے یتیم اور عورت بیوہ ہونے والی ہو تو بھی چھوٹے بچوں کے لئے یہ حالت رنج اور غم کو بڑھانے والی اور فکر پیدا کرنے والی نہیں ہوتی۔اور جس قدر کوئی چھوٹی عمر کا بچہ ہوتا ہے اسی قدر زیادہ اس ریج اور تکلیف کے احساس سے دور ہوتا ہے۔حالانکہ سب سے زیادہ تکلیف اسی کو اٹھانی پڑے گی۔کیونکہ جو بچے بڑے ہوتے ہیں وہ جلد آپ کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن اس کو اس کا مطلق احساس نہیں۔یہ اس وقت اس بات پر مصر ہے ماں مٹھائی لینی ہے۔لوگ اس کو جنت کی زندگی کہتے ہیں مگر میں اس بات کا قائل نہیں کہ یہ جنت کی زندگی ہے۔بہر حال میں اس کو بے فکری کی زندگی کہوں گا۔کیونکہ جنت کی زندگی وہ زندگی ہوتی ہے جو حقیقی آرام کی زندگی ہو۔اور یہ زندگی بے علمی کی زندگی ہوتی ہے۔میں نے شاید پہلے بھی کسی وقت بتایا ہے کہ ایک گھر میں صرف ایک عورت اور اس کا چھوٹا بچہ رہتے تھے۔ایک دن وہ عورت مرگئی۔صبح کو پڑوسیوں نے جب دیکھا کہ بہت دن چڑھے تک اُس کا دروازہ اندر سے بند ہے تو انہوں نے اسے کھولا۔اور دیکھا عورت مردہ پڑی ہے اور بچہ اس کے منہ پر طمانچہ مار رہا ہے اور ہنس ہنس کر کہہ رہا ہے ماں ! بولتی کیوں نہیں۔وہ خیال کرتا تھا کہ ماں مجھ سے ناراض ہے اور دانستہ مجھ سے نہیں بولتی۔اسے کیا معلوم کہ وہ بول ہی نہیں سکتی