زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 49

زریں ہدایات (برائے طلباء) 49 جلد سوم اپنی شہر کی گلیوں سے وہ انہی میں پھرنا چاہتا ہو گا۔غرض جس کو جس چیز کی محبت ہوگی اس سے ملنے یا اس کو دیکھنے کی خوشی کی مختلف کیفیات ان بچوں کے دلوں میں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس میں عاقل اور بالغ انسان بھی اپنے فرائض کو بھول جاتا ہے۔عام طور پر دوہی موقع ایسے ہوتے ہیں جب کہ انسان فرائض کو فراموش کر دیتا ہے۔ایک موقع تو خوشی کا ہوتا ہے اور دوسرار نج کا۔ان کے زیر اثر اپنے فرائض سے غافل ہو جاتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ایسے وقت میں نصائح کی جائیں جو بچوں کے کام آئیں۔مگر نصیحتیں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ایک نصیحت وہ ہوتی ہے جو ایک دن کے لئے ہوتی ہے۔ایک وہ جو دو دن کے لئے۔ایک وہ جو ہفتہ کے لئے۔پھر ایک وہ نصیحت ہوتی ہے جو مہینہ بھر کے لئے ہوتی ہے۔ایک چھ مہینے کے لئے۔ایک سال کے لئے۔ایک دو سال کے لئے کام آتی ہے۔آج جس تقریب کے لئے یہ جلسہ ہے وہ دو مہینہ کی رخصت پر لڑکوں کے جانے کی تقریب ریب ہے۔موقع کے لحاظ سے تو ایسی نصیحت ہونی چاہئے جو دو مہینہ تک بچوں کو کام آئے۔لیکن اگر دو مہینہ کی رخصت کے خیال کو چھوڑ کر آج ایسی نصیحت کی جائے جو نہ صرف دو مہینہ تک کام آئے بلکہ عمر بھر کے لئے کام آئے اور نسلوں تک کام آئے کیونکہ ایسی چیز جو چند ساعت تک خوش کر سکے اس کی نسبت وہ زیادہ مفید ہوتی ہے اور اس کی زیادہ قدر و قیمت سمجھی جاتی ہے جو زیادہ دیر تک کام آسکے۔اس لئے خواہ موقع کے مناسب نہ ہولیکن فوائد کے لحاظ سے ایسی ہی نصیحت کی جائے گی جو نہ صرف لڑکوں کو چھٹیوں میں کام آئے گی بلکہ جوانی اور بڑھاپے میں بھی کام آئے گی۔بچپن کی عمر ایک ایسی عمر ہے کہ جس میں زیادہ خوشیاں منائی جاتی ہیں اور یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جس کے عام طور پر لوگ دوبارہ لوٹنے کے متعلق خواہش کیا کرتے ہیں۔بڑے بڑے شاعر اور فلسفی اس قسم کی خواہش کیا کرتے ہیں کہ کاش! ہم کو بچپن کا زمانہ پھر مل جائے۔پس تمہاری عمر ایسی عمر ہے جس کی خواہش بڑے بڑے لوگ کیا کرتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ زمانہ اور عمر ہوتی ہے کہ جس میں رنج اور غم نہیں ہوتے۔تمہارے نزدیک تمام دنیا کی خوشی کے یہ معنی ہیں کہ